تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 396
۳۸۵ مندرجہ بالا صحابہ کے علاوہ اس سال اہلیہ صاحبہ حضرت مولانا شیر علی صاحب جو حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کی مخلص صحابیہ تھیں اردا جولائی کو انتقال کر گئیں۔آپ منہ میں بعمر پندرہ سولہ برس ہجرت کر کے قادیان آئیں اور ستائر میں داخل احمدیت ہو گئیں اور پھر وفات تک یہیں رہیں۔پابن۔صوم و صلوۃ ، شب بیدار اور اپنے واجب التعظیم شوہر کی حد درجہ فرمانبردار خاتون تھیں لیے حضرت مولانا شیر علی صاحب نے اُن کی وفات پر لکھا :- مرحومہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی خواتین نہایت محبت کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور یہ اس دیرینہ محبت کا تقاضا تھا کہ حضرت ام المومنین کہ ظلہ العالی نے مرحومہ کے چہرہ پر اپنے مبارک ہاتھ پھیرے۔مرحومہ غریبوں پر رحم کرنے والی اور مصیبت زدوں پر ترس کھانے وائی تھیں۔وہ کسی کو بھی خالی واپس کرنا پسند نہ کرتی تھیں۔نہایت فیاض اور مہمان نوانہ تھیں۔میرے لئے تو سرا سرعت مد رحمت تھیں۔جو سلوک اور برتاؤ انہوں نے میرے ساتھ کیا اُس دیکھے کہ ہمیشہ میں یہی سمجھتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو خاص میرے لئے ہی بنایا تھا۔مرحومہ ہمیشہ مجھے نماز کے لئے جگاتی یہ ہیں اور اپنی اس ڈیوٹی کو اپنی بیماری کی شدید ترین حالت میں بھی ادا کرتی رہیں۔مگر جب اُن کی کمزوری اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ اپنی آواز مجھ تک پہنچا نہ سکتی تھیں تو وہ اپنی نواسی کو جو اُن کے بالکل قریب ہوئی ہوتی تھی جگائیں تا کہ وہ مجھ کو جگا ہے۔ان کو یقین تھا کہ یہ اُن کی آخری بیماری ہے۔اس کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہونے وائی ہیں۔لیکن وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی آخری گھڑی کا انتظار کرتی رہیں۔اپنے بچوں کو بھی صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہتیں کہ رونا نہیں صبر کرنا۔کسی قسم کا اضطراب یا بے چینی ان کی طبیعت میں نہ پائی جاتی تھی۔اس دنیا سے اور عزیزان سے آنے والی جدائی کے خیال پر کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا۔بیمار پرسی کرنے والوں سے اُن کی اسس کے سوا اور کوئی درخواست نہ تھی کہ میرے نیک خاتمہ اور ایمان کے لئے دعا کرو۔۔۔۔۔مرحومہ کے دادا نے جو ایک صالح انسان تھے غائبا رمضان شریف کے آخری عشرہ الفضل ١٤ صفحہ اکام - مزید حالات کے لئے ملاحظہ ہو میرت حضرت مولانا شیر علی صاحب " صفحہ ۸۳ ۹۴ د مومنہ ڈاکٹر ملک نذیر احمد صاحب ریاض )