تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 363 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 363

۳۵۲ اور مخالفوں کا ذکر بھی ہوتا ہے۔اور اس طرح جس شخص کو ہر ہفتہ یہ خطبہ پہنچتا رہے احمدیت گویا تنگی ہوکر اس کے سامنے آتی رہے گی اور وہ بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ اس جماعت کی امنگیں اور آرزوئیں کیا ہیں کیا ارادے ہیں ؟ یہ کی کرنا چاہتے ہیں؟ دشمن کیا کہتا ہے اور یہ کس رنگ میں اُس کا مقابلہ کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں ؟ اگر اس رنگ میں کا م شروع کیا جائے تو ایک شور بیچ سکتا ہے۔اگر دو ہزار آدمی بھی ایسے ہوں جن کے پاس ہر مفتہ سلسلہ کا ٹریچر پہنچتا ہے تو بہت اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ان لوگوں کو چٹھیاں بھی جاتی رہیں اور ان سے پوچھا جائے کہ آپ ہمارا لٹریچر مطالعہ کرتے ہیں یا نہیں ؟ اگر کوئی کہے نہیں تو اس سے پوچھا جائے کیوں نہیں ؟ یہ پوچھنے پر بعض لوگ لڑیں گے اور یہی ہماری غرض ہے کہ وہ لڑیں یا سوچیں۔جب کسی سے پوچھا جائے گا کہ کیوں نہیں پڑھتے ، تو وہ کہے گا کہ یہ پوچھنے سے تمہارا کیا مطلب ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ پوچھنا ضروری ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی آواز ہے جو آپ تک پہنچائی جا رہی ہے۔اسپر وہ یا تو کہیگا شنا لو اور یا پھر کہے گا کہ میں نہیں مانتا اور میں دن کوئی کسی گا کہ جاؤ میں نہیں مانتا اُسی دن سے وہ خدا تعالٰی کا مد مقابل بن جائے گا اور ہمارے رستہ سے اُٹھا لیا جائے گا۔جن لوگوں تک یہ آواز ہم پہنچائیں گے اُن کے لئے دو ہی صورتیں ہوگی یا تو ہماری جو رحمت کے فرشتے ہیں سنیں اور یا پھر ہماری طرحت سے منہ موڑ کر خدا تعالیٰ کے عذاب کے فرشتوں کی تلوار کے آگے کھڑے ہو جائیں۔مگر اب تو یہ صورت ہے کہ کہ نہ وہ ہمارے سائے میں اور یہ ملائکہ عذاب کی تلوار کے سامنے بلکہ آرام سے اپنے گھروں میں یٹھے ہیں۔نہ تو وہ خدا تعالیٰ کی تلوار کے سامنے آتے ہیں کہ وہ انہیں فنا کر دے اور نہ اُس کی محبت کی آواز کو سنتے ہیں کہ ہدایت پا جائیں۔اب تو وہ ایک ایسی چیز ہیں جو اپنے مقام پر کھڑی ہے اور وہاں سے بہتی نہیں۔لیکن نئی تعمیر کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُسے وہاں سے ہلایا جائے۔یا تو وہ ہماری طرف آئے اور یا اپنی جگہ سے ہٹ جائے ہائے اسی ضمن میں حضور نے اپنے ایک دوسرے خطبہ میں ان اخبارات کو اور ان کے متعلقہ محکموں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے پرچوں کو زیادہ سے زیادہ مکمل اور دلچسپ بنانے کی کوشش کریں اور مواد اس طرح مرتب کریں کہ اشاره ۲ صفحه ۴ده +