تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 358 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 358

اسی طرح ایک اور بزرگ کا واقعہ ہے کہ کسی شہر میں بادشاہ کا کوئی مہاری رہتا تھا جس کے ہاں شب و روز گانا بجانا ہوتا اور میتہ والے سخت تنگ آچکے تھے محلہ کے لوگ اُس بزرگ کے پاس گئے اور کہا کہ اس طرح رات بھر شور و شہر کی وجہ سے عبادت میں خلل پڑتا ہے اگر عبادت کرنا چاہیں تو شور کی وجہ سے نہیں کر سکتے اور اگر سونا چاہیں کہ تہجد کے وقت اُٹھیں گے تو شور کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔ان حالات میں ہم لوگ کیا کریں ؟ کئی لوگ اس در بادی کو سمجھاتے رہے وہ بزرگ بھی پیغام بھیجتے رہے مگر اس پر کوئی اثر نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔آخر جب لوگوں نے اُس درباری سے کہا کہ اب سختی سے تمہارا مقابلہ کرنا پڑ ے گا۔اس نے جواب دیا کہ تم میرا کیا مقابلہ کر سکتے ہو تم جانتے نہیں کہ میں بادشاہ کا درباری ہوں۔میں بادشاہ سے کہا کہ کل یہاں پولیس مقرر کرا دوں گا۔پھر تم کو اچھی طرح پتہ لگ جائے گا۔اُس بزرگ نے کہا کہ تم پولیس مقصر کر لو گے تو ہم بھی مقابلہ کرینگے۔اُس نے جواب دیا کہ بڑے آئے مقابلہ کرنے والے۔تمہارے پاس کیا رکھا ہے، جس سے بادشاہ کی فوجوں کا مقابلہ کرو گے ؟ اس بزرگ نے کہاکہ ہم تو راتوں کے تیروں سے مقابلہ کرینگے۔اس بزرگ کو دعاؤں کی طاقت اور اپنی دعاؤں کی قبولیت کا جو یقین تھا اُس کا یہ اثر ہوا کہ اُن کے مونہہ سے یہ بات نکلنے کے ساتھ ہی اس درباری کی پہنچیں نکل گئیں۔اس نے نورا حکم دیا کہ سارنگیاں وغیرہ توڑ دی جائیں۔اور اس بندرگ سے کہا کہ راتوں کے تیروں کا مقابلہ ہم واقعی نہیں کر سکتے۔تو ذکر الہی کی طاقت سے بات میں بہت زیادہ اثر پیدا ہو جاتا ہے۔دیکھو قرآن کریم وہی تھا مگر مسلمان اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے تھے اس لئے کہ اُن کے دلوں میں حقیقی ایمان نہ تھا۔مگر یہی قرآن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں آکر کس طرح اسلام کے دشمنوں کو نہیں نہیں کر رہا ہے۔اور چاروں طرف مُردے ہی مرد سے نظر آتے ہیں۔یہ اس لئے ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ذکر الہی کی طاقت تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات مسیح کے جو دلائل پیش فرمائے ہیں اُن میں میں نہیں بلکہ او سوکا اضافہ بھی بے خشک کر لو لیکن اگر ذکر الہی نہیں تو ان تمام دلائل اور انہیں بیان کرنے والے