تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 350 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 350

۳۳۹ خدمات میں حصہ لینے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان زیادہ ہے زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کریں۔اسی طرح مجھے یا ناظر صاحب امور عامہ کی وہ دوست اپنے اپنے نام بھجوا دیں جو اپنے اپنے علاقوں میں اس غرض کے لئے دورہ کرنے کو تیار ہوں۔ایسے دوستوں کو چاہیے کہ وہ گاؤں گاؤں میں پھر کر نوجوانوں کو تلقین کریں۔اور اُن میں سے جو قابل ہوں انہیں فوج میں بھرتی کرائیں۔میں نے جیسا کہ کہا ہے ایک دفعہ پھر اس امر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ موت کا ڈر کسی زندہ قوم کے افراد کے دل میں نہیں ہو سکتا۔اگر خدانخواستہ تمہارے دلوں میں موت کا ڈر ہے یا جاپانیوں کا ڈر ہے یا جرمنوں کا ڈر ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے دل کا اتنا حصہ ایمان سے خالی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے إِيَّايَ فَارْهَبُونِ کہ مجھ سے ہی ڈرو۔ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے تین دفعہ اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف خدا سے ہی ڈرنا چاہیئے کسی اور سے نہیں ڈرنا چاہئیے۔چنانچہ آیاکی سے پہلے فعل محذوف ہے جو اِذْهَبُوا ہے یعنی اِذْهَبُوا إِيَّايَ اس کے بعد ایک اور امر محاوت ہے جس پر نا کا حربنا دلالت کرتا ہے اور وہ فعل بھی ارْهَبُوا ہے۔تیسری بار فاز همون کہہ کر پھر نا کیار کی گئی ہے گویا اس فقرہ کو اگر پھیلایا جائے تو یوں نے گا کہ إِرْهَبُوا إِيَّاى إِرَهَبُوا فَارْحَبُونِ - یعنی مجھ سے ڈرو - ڈرو مجھ سے۔ہی ڈرو۔یعنی سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرنا چاہیئے۔یہی مومن کی علامت ہے۔جو شخص خدا تعالے کے میرا کسی اور سے نہیں ڈرتا اُس کو کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔اسی طرح جب کسی قوم کے دل سے ڈر نکل جائے تو وہ قوم یا تو مرجائے گی یا ناتج ہو کر زندگی بسر کریگی غلام کی زندگی نہیں بسر کرے گی۔پس اپنے زاوں سے موت کا ڈر نکال دو اور سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرو۔پھر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طافت بھی نہ کو مغلوب نہیں کرسکی مادہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا : " تم مرت سمجھو کہ احمدیت کی فتح اسی طرح ہوگئی کہ ایک احمدی یہاں سے ہوا اور ایک وہاں سے۔یہ تو ویسی ہی جنگ ہے جیسی بڑی جنگ سے پہلے ہراول دستوں ں چھوٹی چھوٹی له الفضل و روناهه د و ر جولائی ۶۱۹۲۳ صفحه ۳ تا ۹ + الم