تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 11 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 11

ہندوستان میں سلطنت خداداد میسور کے آخری تابعدار سلطان ابو الفتح فتح علی ٹیسورحمة اللہ علیہ ۶۱۷۵۳۲ - 1299ء) نے ہجری شمسی تقویم کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے ایک نئی تقویم تیار کی بچنا نچہ محمود خاں محمود بنگلوری اپنی کتاب " تاریخ سلطنت خداداد " میں لکھتے ہیں :- سلطان سے پہلے ملک میں مغلیہ زمانے سے سنہ ہجری کا رواج چلا آتا تھا اور اُس میں یہ نقص تھا کہ لگان کی وصولی میں بہت سی مشکلات پیش آتی تھیں۔اس لئے کہ لگان فصلوں کی تیاری کے بعد لیا جاتا تھا۔سنہ ہجری کے مہینے آگے پیچھے ہو جاتے تھے۔اس نقص کو محسوس کرتے ہوئے اس نے ایک نئی تقویم بنائی جس کی وجہ سے ہر مہینہ ٹھیک اسی موسم میں آتا تھا، جیسے اگلے موسم میں تھا۔تقدیم بنانے کے بعد اس نے مہینوں کے نام ابجد و ابتث کے جسنا پر رکھے۔اس سے سلطان کی مراد یہ تھی کہ حروف پہنچی کی ترتیب یا ابجد کے حساب پر اگر نام رکھے جائیں تو لوگوں کو یاد رکھنے میں زیادہ سہولت ہوگی۔سلطان شہید نے حروف ابجد کے حساب سے بارہ مہینوں کے حسب ذیل نام رکھے۔احمدی۔بہاری - جعفری - دارائی۔ہاشمی - واسعی۔زیر جدی - حیدری - طلوعی - یوسفی بازوی بیاسی بحساب ابتت انہی نہینوں کو بالہ تیب مندرجہ ذیل ناموں سے موسوم کیا۔احمدی۔بہاری تھی۔ثمری - جعفری - حیدری خسروی - دینی - ذکری - رحمانی - راضی رہا: اے سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد یہ تقویم جاری نہ رہ سکی۔تاہم مسلمان مرتبوں کے دلوں میں یہ خیان برابر پرورش پاتا رہا کہ تقویم شمسی ہونی چاہئیے۔چنانچہ مصر کے مشہور عالم السید محب الدین خطیب نے ۱۳۶ھ میں قاہرہ کے المطبعۃ السلفیہ سے تقويمنَا الشَّمسی " کے نام سے ایک کتا بچہ شائع کیا جس میں ہجری شمسی تقویم کے لئے گذشتہ مسلم سلاطین کی جدوجہد کی تاریخ بیان کی اور آخر میں اس کے اجراء کی ضرورت و اہمیت واضح کی۔حضرت فضل عمر کی توجہ مگر جو سعادت ازل سے حضرت فضل عمرہ کے عہد زریں کے ساتھ وابستہ تھی اس کی تکمیل کسی اور دور میں کیسے ہو سکتی۔واقعہ یہ ہوا تقویم هجری شمسی کی طرف سر سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الانی نے سر میں اپنے سیر له تاریخ سلطنت خدا داد " (میسور) صفحه ۵۰۰۰۴۹۹ مولفه محمود خان محمود بنگلوری ناشر پیش رز یونائیٹڈ ہو ے " طبع چہارم والد نے