تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 307
۲۹۷ یر توی عالیم اسلام کی قدیم ترین یونیورسٹی جامعه از سر کی جماعت کبار العلماء کے رکن فضیلتہ الاستاذ علامہ محمد شلتوت کا تھا ہو تاہرہ کے ہفت روزہ الرسالہ " کی جلد شماره ۱۳۶۲ مورخه دار مئی ۳۶ اور میں ترفع عیسی" کے عنوان سے شائع ہوا۔مریکی مود شلتوت کے فتوی کا مکمل متن علامہ محمود شلتوت کے اس معرکۃ الاراء منوی کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے :۔(اداريه ) دَرَدَ إِلَى مَشْيَئَةِ الأَزْهَرِ الْجَلِيلَةِ مِنْ حَضْرَةِ عَبْدِ الكَر يمرخان بِالْقِيَادَةِ الْعَامَّةِ بِجُيُوشِ الشَّرْقِ الْأَرْسَطِ سُوال جَاءَ فِيهِ مَالْ عِيسَى حَيَّ أَوْمَيِّتَ فِي نَظر القران الكريمرِ وَالسُّنَّةِ الْمُطَهَّرَةِ ، وَمَا حُكْمُ الْمُسْلِمِ الَّذِي يُنْكِرُ أَنَّهُ حَي - 1 ما حكم من لا يُؤْمِنُ بِهِ إِذَا فُرِضَ أَنَّهُ عَادَ إِلَى الدُّنْيَا مَرَّةً أخرى؟ وَقَدْ حول هذا السؤال إلى فَضِيلَةِ الأستاذ الكَبِيرِ الشَّيْخِ مَحْمُودِ شَلَتُوت عُضُرُ جمَاعَةٍ كَبَارِ اسْلَمَاءِ فَكَتَبَ مَا يَأْتِي - امَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقُرْآنَ الكَرِيمَ قَدْ عَرَضَ لِعِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فِيْمَا يَتَّسِلُ بنهاية شَائِهِ مَعَ قَوْمِهِ فِي ثَلَاثِ سُوءٍ - سے مولانا محی الدین الالوائی ایم۔اسے فاضل الازہر اپنی کتاب "عرب دنیا میں لکھتے ہیں :۔یہ یونیورسٹی دنیا کی سب سے قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔جامعہ ان پر پھر سے علمی ادبی اور مذہبی خدمات انجام دے رہا ہے۔جامعہ از ہر اپنے مجھے ایک عظیم تاریخ " رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔جامعہ از ہر قاہرہ میں ہے اور قاہرہ شہر کے بانی المعزالدین اللہ العظمی نے اس کو قائم کیا تھا ، صفحہ ۱۳۹۳ ناشر مکتبه بران اردو بازار جامع مسجد نبی سے علامه محمود شلتوت ۱۳ اپریل ۱ در یک و نیم مینی بی منصور بحیرہ میں پیدا ۹ ہوئے۔شہر میں عالمیہ نظامیہ کی ڈگری حاصل کی۔ہمیں قاہرہ میں یا تعلیم کے استاذ بنے۔میں جب الشیخ مرافی شیخ الازہر مقرر ہوئے تو آپ نے ازہر کی اصلاح وتی یاد میں ان کا ہاتھ بٹایا۔شائر میں آپ کو تگیر شریعہ ان اسلامیہ کی وکالت سپرد ہوئی۔ائر میں آپ علماء کبار کی جماعت کے رکن تجویز کئے گئے یا اور میں آپ نے وفات مسیح سے متعلق معرکتہ الآراد فتونی دیا۔۱۹۵۶ء میں آپ موتمر اسلامی کے مشیر مقرر کئے گئے۔پھ 19 اور اکتوبر شداد کو منصب شیخ الازہر پر نائز کئے گئے اور بر سر میں انتقال فرما گئے علامہ محمود شلتوت نے نہایت قابل قدر ٹر پر اپنے تجھے علمی یادگار کے طور پر چھوڑا ہے زمرہ تفصیل کیئے ملاحظہ ہو مجلہ الان باید به ماه ربیع الآخر جاری لادانی مهم)