تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 298 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 298

۲۸۸ انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور اس پر فیصلہ کرنا منظور نہیں کیا۔استاد انگریزی بالا با استار ما است -۴- مباحثه موضع بیری ضلع گورداسپور : سارامان هنر در مارا سر کو موضع بری : ۱۳ میں مولوی ابو العطاء صاحب فاضل نے وفات حضرت مسیح علیہ اسلام اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مولوی عبد اللہ صاحب معمار سے ایک کامیاب مناظرہ کیا جس میں قادیان سے بھی بکثرت لوگ شامل ہوئے ہے ۵ مباحثات دہلی : این ان کا آخری ہفتہ غیر مبالعین سے مناظرات کا مرکز بنا رہا۔ادان تاریخ ۶۱۹۴۱ اس ہفتہ تین مناظرے ہوئے اور تینوں میں مولانا ابوالعطاء صاحب مناظر تھے۔پہلا مناظرہ ۲ ر امان (مارچ ) کی شب کو ہوا جس میں غیر مبائعین کی طرف سے مولوی اختر حسین صاحب مصور تھے۔بحث کا موضوع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ظلی نبوت قرار پایا۔جناب مولوی ابو العطاء صاحب نے پہلے نصف گھنٹہ اس موضوع پر تقریر فرمائی اور اس کے بعد مناظرہ شروع ہوا۔جو دو گھنٹے تک جاری رہا۔فاضلی مناظر نے ملی۔بروزی اور امتی نبی وغیرہ اصطلاحوں کی حقیقت کو حضرت اقدس کے کلام مبارک سے نہایت احسن طریق پر سامعین کے ذہن نشین کرایا۔جس کے جواب میں مولوی اختر حسین صاب اخیر تک کوئی معقول بات پیش نہ کر سکے۔بغیر مبائع مناظر نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت اقدس نے نہیں ملتی مجد یا علی محدث کے الفاظ استعمال نہیں فرمائے ہاں خلقی نبی لکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضور اپنے آپ کو مجدد محدث سمجھتے تھے اس لئے نبی کے لفظ کے ساتھ خلقی کا استعمال فرمایا ہے۔ہمارے فاضل مناظر نے اُن کی اس غلطی کو بھی نہایت عمدہ طریق پر ظاہر کردیا اور ازالہ اوہام کے حوالہ سے واضح فرما دیا کہ حضور فرماتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ ملتا ہے علی طور پر ملتا ہے۔پس جب سب کچھ فلی طور پر ملا ہے تو مجددیت یا محدثیت کہاں باہر رہ سکتی ہے اس کا کوئی جواب مولوی اختر حسین صاحب نے باد خود بار بار توجہ دلانے کے نہ دیا۔دوسرا مناظره ۲۳ امان (۲۳ مارچ ) کو ہوا۔غیر مبائین کی طرف سے شیخ عبد الحق صاحب مناظر تھے۔موضوع مناظرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فضیلت برسیح ناصری علیہ اسلام اور اُس کی بنیاد ثبوت پر ہے یا نہیں قرار پایا۔مولوی ابو العطاء صاحب نے دور ان مناظرہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے حوالے سنانے کے بعد خاص طور پر نزول مسیح کی مندرجہ ذیل عبارت پڑھی کہ : 1917) ه الفضل درامان هنر در پارچ (۱۹۳) صفحه ۲۵ ۵۲ الفضل ها ر امان هر ۵ ار ماراح اشتم صفحه و کالم t