تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 284
۲۷ آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں ایک اٹلی کے پادری نے گرجا بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی اُس نے بعض عمارتیں بھی بنائی ہوئی ہیں جنہیں وہ کرایہ پر مسافروں کو دے دیتا ہے۔وہاں چلیں وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔میں کہتا ہوں بہت اچھا۔چنانچہ میں گائیڈ کو ساتھ نیکر پیدل چل پڑتا ہوں۔ایک دو ریست اور بھی میرے ساتھ ہیں۔چلتے چلتے ہم پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ گئے مگر وہ ایسی چوٹیاں ہیں جو ہموار ہیں۔اس طرح نہیں کہ کوئی چوٹی اونچی ہو اور کوئی نیچی جیسے عام طور پر پہاڑوں کی چوٹیاں ہوتی ہیں بلکہ وہ سب ہموار ہیں جس کے نتیجہ میں پہاڑ پر ایک میدان پیدا ہو گیا ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک پادری کالا ساکوٹ پہنے کھڑا ہے اور پاس ہی ایک چھوٹا سا گر جا ہے۔اس آدمی نے پادری سے کہا کہ باہر سے کچھ مسافر آئے ہیں انہیں ٹھہرنے کے لئے مکان چاہیے۔وہاں ایک مکانی بنا ہوا نظر آتا ہے وہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پادری لوگوں کو کرایہ پر جب گھر دیتا ہے۔اُس نے ایک آدمی سے کہا کہ انہیں مکان دیکھا دیا جائے۔وہ مجھے مکان دکھانے کے لئے لے گیا۔ایک دو در صمت اور بھی ہیں۔میں نے دیکھا کہ وہ کچا مکان ہے اور جیسے فوجی بارگیں سیدھی چلی جاتی ہیں اسی طرح وہ مکان ایک لائن میں سیدھا بنا ہوا ہے۔مگر کمرے صاف ہیں۔میں ابھی غور ہی کر رہا ہوں کہ جو شخص مجھے کمرے کھا رہا تھا اس نے خیال کیا کہ کہیں میں یہ نہ کہ دوں کہ یہ ایک پادری کی جگہ ہے ہم اس میں نہیں رہتے ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادت میں کوئی رنک پیدا ہو۔چنانچہ وہ خود ہی کہنے لگا۔آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔یہ نے اسے کہا کہ اچھا مجھے مسجد دکھاؤ اُس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی مگر چھوٹی سی تھی مسجد مبارک سے نصف ہوگی لیکن اس میں چٹائیاں اور دریان غیرہ بھی ہوئی تھیں اسی طرح امام کی جگہ ایک صاف قائینی مصلی بھی بچھا ہوا تھا مجھے اس مسجد کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔اور میں نے کہا کہ ہمیں یہ جگہ منظور ہے۔خواب میں مبینی یہ خیال نہیں کیا کہ مسجد وہاں کس طرح بنائی گئی ہے، مگر بہر حال مسجد دیکھ کر مجھے مزید تسلی ہوئی اور میں نے کہا کہ اچھا ہوا مکان بھی مل گیا اور ساتھ ہی مسجد بھی مل گئی۔تھوڑی دیر کے بعد میں باہر نکلا اور میں نے دیکھا کہ لگا ہو گا احمدی وہاں آرہے ہیں خواب میں میں حیران ہوتا ہوں کہ میں نے تو ان سے یہاں آنے کا ذکر نہیں کیا تھا ان کو میرے یہاں آنے کا پتہ لگ گیا ہے