تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 282 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 282

آئے ہیں انہیں گورنمنٹ پکڑ رہی ہے اگر تم نے حالات نہ بتائے تو تمہیں بھی پکڑ لیا جائے گا۔انکو میہ بالکل غلط ہے۔ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو جاپان سے آئے مگر انہیں کسی نے گرفتار نہیں کیا۔صرف اسی آئی ڈی کے بعض افسر معلومات حاصل کرنے کے لئے اس قسم کی دھمکی دے دیتے ہیں۔پس اگر گورنمنٹ کے معنے وزراء کی باقاعدہ مجلس کے ہیں تو میں مان سکتا ہوں کہ اس واقعہ میں گورنمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا لیکن دوسرے بعض حکام اور سی آئی ڈی کے بعض افسروں کا راس میں ہاتھ ضرور تھا۔۔۔جب یہاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آئے تو میں نے اُن کے سامنے ایسے واقعات رکھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ڈیڑھ سال کا ایک پرانا واقعہ ہے اور میں نے اُن سے پوچھا کہ یہ ڈیڑھ سال کا واقعہ نئی صورت کس طرح اختیار کر گیا۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب اتفاق ہے مگر دنیا میں مجیب اتفاقات ہو ہی جایا کرتے ہیں پھر میں نے دوسری مثال دی۔کہنے لگے یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے۔میں نے کہا یہ سارہ عجوبے یہاں کی طرح اکٹھے ہو گئے۔اور ان پرانے واقعات نے نئی صورت کس طرح اختیار کرنی ؟ غرض ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ در حقیقت اس واقعہ میں بعض بالا افسروں کا ہاتھ تھا لیکن جو فعل ہوا وہ مقامی آدمیوں سے ہوا۔گویا ہی لفظ جو اس چٹھی میں استعمال کیا گیا شعر ہے یعنی آن فارچون" وہ اس واقعہ پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے بعض اور لوگ مارے گئے۔حالانکہ اصل مجرم اور تھے۔میں اس وقت ساری باتیں اپنے خطبہ میں بیان نہیں کر سکتا اور بعض باتیں تو ایسی ہیں جن کا بیان کرنا مناسب بھی نہیں۔صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسے یقینی ثبوت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بالا افسر اس کا رروائی میں شامل تھے۔میں یہ ماننے کے لئے تیار ہوں کہ قانونا جس شکل کو گورنمنٹ کہتے ہیں وہ اس واقعہ کی ذمہ دار نہ تھی۔مگر بعض اور بھی بالا افسر ایسے ہوتے ہیں جو گورنمنٹ کے قائم مقام سمجھے جاتے ہیں۔اور جب اُن کی رائے کسی کے خلاف ہوتی ہے تو ماتحت افسر اسے خود بخود نقصان پہنچانا شروع گر دیتے ہیں۔ہیں۔بیشک اصطلاحی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گورنمنٹ کا ہا تھے اس واقعہ میں نہیں تھا گر حقیقی طور پر گورنمنٹ کے بعض افسروں کا اس میں ہاتھ تھا۔بہر حال چونکہ گورنمنٹ نے قطع نظر OMFORTUNE بدقسمتی سے *