تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 256 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 256

مختلف پلاٹ بنائے گئے تھے۔اور مذکورہ حاجی صاحب کو جو اس انجمن کے آمیزی نائب منتظم تھے نیلام کندہ کی ڈیوٹی پر مامور کیا تھا نیلام کے لئے مذکورہ واقعہ والے جمعہ کے بعد آنے والی جمعرات کا دن بعد از نماز عصر مقرر تھا۔جب نیلامی شروع ہوئی تو میں بھی تماشائی کے طور پر اس مجمع میں اُن حاجی صاحب گئے بالکل قریب کھڑا تھا۔جب اس پلاٹ کی باری آئی میں پر اب مسجد احدید بنی ہوئی ہے تو نیلام کنندہ نے سرگوشی کے ساتھ مجھے مخاطب کرتے ہوئے آہستہ سے کہا کہ " تمہارے پاس کوئی مسجد نہیں یہ بہت موقعہ کا چوکور پلاٹ ہے کیوں اسے خرید نہیں لیتے ؟ ان کے یہ الفاظ میرے کانوں سے گذر کر اس طرح دل میں اُتر گئے جس طرح سوچ کے دہانے سے بجلی کا بلب روشن ہو جاتا ہے۔اس بارہ میں احباب جماعت سے مشورہ تو الگ رہا سرسری ذکر بھی کبھی نہیں ہوا تھا مگر میں نے تو کل بنا را بولی میں حصہ لینا شروع کر دیا۔دوسرے خریدار چونکہ دنیا دی اغراض کے لئے اس پلاٹ کے خواہشمند تھے اس لئے وہ قیمت کے بارہ میں محتاط رنگ میں بولی دے رہے تھے مگر میرے دل میں تو خدا کے گھر کی تعمیر کی خاطر ایک خاص جوش پیدا ہو چکا تھا اس لئے میں نے اس بولی میں حصہ لینا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں چھے مرلہ کا یہ کھڑا ہومو ستر روپے فی مرلہ کے حساب سے میرے نام پر ختم ہوا۔گوئیں نے نیلام کنندہ کی تحریک کے جواب میں ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نہیں نکالا تھا مگر انہیں نیلام کنند حاجی صاحب نے في الفور اُس مجمع میں اعلان کر دیا کہ بھائیو ! یہاں مرزا کیوں کی مسجد بنے گی۔خدا تعالے کے کیا ہی عجیب تصرفات ہیں کہ جس شخص نے احمدیوں کو اپنی مسجد سے نکالا تھا وہ سر جمعہ آنے سے قبل اسی کی تحریک پر احمدیوں نے مسجد کے لئے زمین خریدی اور خود اسی کی زبان سے اللہ تعالے نے اس کا اعلان بھی کرا دیا کیا اللہ العظیم۔دوسرے دن جمعہ کی نماز کے لئے حسب انتظام جب احمدی احباب میرے مکان پر جمع ہوئے تومیں نے ان کو یہ خوشخبری سنائی اور اسی وقت زمین کی قیمت وغیرہ کے لئے چندہ کی پہیل کی چنیوٹ کے جو احباب کلکتہ لاہور آگرہ وغیرہ مقامات پر تجارت کرتے تھے سب کو تحریک کی گئی مود کریم کی مہربانی سے سب نے حسب توفیق دل کھول کر چندہ دیا۔کافی عرصہ تک وہ زمین یو نہی پڑی رہی اور غالباً ہمیں بائیس سال ہی جماعت کے دوستوں کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اس خانہ خدا کی تعمیر کریں۔میرے نہایت ہی جو آنا قوام جنگ چھا میاں جناب حاجی تاج محمود صاحب مرحوم کی سرپرستی میں اور میرے چھوٹے بھائی میاں محمد یوسف صاحب بانی کی نگرانی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ