تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 214
اگر چہ عالمگیر جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے انگلستان کا پورا ملک فضائی بناظرہ انگلستان میں پہلا کامیا بین فروا حملوں کی زدمیں آچکا تھا گرم وینا جلال الدین صاحب شخص مبلغ انسانی شقق پرائیویٹ ملاقاتوں ، لیکچروں اور لٹریچر کی اشاعت اور دوسرے ذرائع سے تبلیغ اسلام کا فرامیہ پوری سرفروشی سے بجا لا ر ہے تھے۔خصوصا ہائیڈ پارک میں آپ نے متعدد لیکچر دیئے اور دوسرے لیکچراروں پر بھی سوالات کرتے رہے۔اس سال کا ایک خاص واقعہ یہ ہے کہ آپ نے ہائیڈ پارک میں حضرت مسیح کی صلیبی موت" کے موضوع پر پہلا کامیاب مناظرہ کیا جو اس سرزمین میں اپنی طرز کا مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پہلا مباحثہ تھا۔اس دلچسپ مباحثہ کی تفصیل حضرت مولانا شمس صاحب کے الفاظ میں لکھنا زیادہ مناسب ہو گا۔فرماتے ہیں :- متعدد مرتبہ میر عبد السلام صاحب اور خاکسار نے ہائیڈ پارک میں تقریریں کیں۔نیز دوسرے لیکچراروں پر سوالات کئے۔۳۱ جولائی کو ئیں ابطال العربیت میسج کے موضوع پہ بولا۔سوال و جواب کے دوران میں مسیح کی صلیبی موت کا بھی ذکر آیا۔لیکچر کے بعد ایک پادری نے اس مسئلہ کے متعلق مجھ سے گفتگو کی۔آخر قرار پایا که راگست کو اس موضوع پر مباحثہ کیا جائے چنانچہ وقت مقررہ پر جب میں نے بولنا شروع کیا تو وہ پادری بھی آگیا۔اس نے وقت مانگا میں نے کہا اپنا پلیٹ فارم لے آؤ۔چنانچہ وہ اپنا پلیٹ فلام لے آئے۔در بجے سے۔اربجے شام تک دو گھنٹے مباحثہ ہوا۔دس دس منٹ بولنے کی باری مقرر ہوئی۔ایک شخص کو ٹائم کیپر مقرر کیا گیا۔مباحثہ ہوتے دیکھ کر پبلک خوب اکٹھی ہو گئی۔میں نے اپنی پہلی تقریر میں مسیح کے صلیب پر نہ کرنے کے ثبوت میں انجیل سے مسیح کی دعا پیش کی کہ اے خدا! ہر ایک طاقت تجھ کو ہے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے چنانچہ ایرانیوں ہے میں لکھا ہے کہ وہ دعا اس کی سنی گئی نیز زبور سے اس دُعا کی قبولیت کے لئے پیشگوئیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا۔اگر تسلیم کیا جائے کہ یہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی تو میسیج مطابق یوحنا گناہگار ثابت ہوتے ہیں۔اس کے جواب میں عیسائی مناظر نے کہا کہ میسیج کی دُعا پوری نہیں پیش گئی۔اس کے ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ تیری مرضی نہیں بلکہ جو تیری مرضی ہے وہی ہو۔اور وہ اس لئے آیا تھا کہ صلیب پر مرکہ لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہو۔میں نے کہا۔اگر اس فقرہ کا یہ مطلب ہے کہ اگر تیری مرضی ہے کہ میں صلیب پر مارا جاؤں تو پھر مجھے مارا جانا چاہیئے