تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 175 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 175

۱۶۸ کو سچ سمجھنے کی توفیق دے اور ان کا وہ غصہ دُور ہو جو ان کے لئے صداقت کے سمجھنے میں روک ہو رہا ہے اس مخلصانہ پیشکش پر مولوی محمد علی صاحب نے اخبار پیغام صلح ۱۲ جولائی 19 میں ایک مضمون لکھا جسے حضرت امیر المومنین کے حکم سے اخبار " الفضل در ظہور / اگست بارش میں چھاپ دیا گیا اور اگلے شمارہ میں حضور نے اپنا جواب الجواب ایک مفصل مضمون کی صورت میں شائع کر دیا۔اب مولوی محمد علی صاحب کو چاہیئے تھا کہ وہ حضور کا مضمون اپنے اخبار میں شائع کراکے اپنے موقف کے مضبوط اور دلائل کے مستحکم ہونے کا عملی ثبوت دیتے یا حضور کی فراخدلانہ تجویز کے مطابق ایسے اپنے مضمون کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کر دیتے مگر مولوی صاحب موصوف نے حضور کا مضمون تو شائع کرنا گوارا نہیں کیا البتہ خود ایک اور مضمون پیغام صلح ہر ستمبر 9اہ کے پرچہ میں لکھ کر اوپر یہ نوٹ دے دیا کہ " میں امید رکھتا ہوں کہ میاں صاحب اسے اپنے اختبار الفضل میں شائع کر دیں گے" ہی نہیں بلکہ جب افضل " میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا مضمون اُن کے مضمون کے جواب میں شائع ہوا تو حضرت اقدس اور مولوی محمد علی صاحب دونوں ڈلہوزی میں فروکش تھے۔حضور نے ” الفضل“ کا وہ پرچہ دے کو چودھری خلیل احمد صاحب ناصر بی۔اے مجاہد تحریک جدید اور ایک اور نوجوان کو بھیجا کہ بجا کہ مولوی صاحب موصوف کے لڑکے کو دے آئیں اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میرا خیال ہے کہ وہ نہیں لے گا۔وہ لے کر گئے مگر اس نے " الفضل " کا پرچہ لینے سے انکار کر دیا۔سلہ مولوی محمد علی صاحب کو قادیان آنے اور لیکچرا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مولوی محمدعلی صاحب پر اتمام حجت کرنے اور ان کے اس دہم کا ازالہ کرنے دینے کی دعوت اور ان کا افسوسناک مظاہرہ کے لئے کہ گویا آپ نے اپنے غلام کو غیر یامین کی تحریرات پڑھنے سے روک رکھا ہے مولوی صاحب کو قادیان تشریف لانے اور یہاں آکر تین لیکچر دینے کی دعوت دی۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- میں اس کے لئے بھی تیار ہوں کہ وہ قادیان آ جائیں تھیں یہاں اُن کے تین لیکچر اپنی جماعت میں کرا له " الفضل" ۲۶ وفا / جولائی یہ ہش صفحه ۱۶ " الفضل" ۱۶ صلح استوری با سایر مش صفر ۴ کالم ۰۴