تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 155
۱۳۸ سا مضمون میرے غور کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے" اس خدائی عطیہ کا ایک خصوصی پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالے کی طرف سے تفسیر کبیر کی تالیف کے دوران حضور کو بعض مشکل مقامات کا اصل یکایک القاء کیا جاتارہا۔بطور مثال ایک اہم واقعہ کا بیان کرنا ضروری ہے ہو حضور نے سورۃ الفجر کے درس کا آغاز کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ قرآن کریم کی کئی مشکل آیات کے معن اللہ تعالیٰ نے اپنے الفاء اور الہام کے ذریعہ مجھ پر منکشف فرماے ہیں۔اور اس قسم کی بہت سی مثالیں میری زندگی میں پائی بھاتی ہیں۔انہی مشکل آیات میں سے میرے لئے ایک یہ سورۃ بھی تھی۔میں جب بھی سوچتا اور غور کرتا مجھے اس کے معانی کے متعلق تسلی نہیں ہوتی تھی بلکہ ہمیشہ دل میں ایک خلش سی پائی جاتی تھی اور مجھے بار بار یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ جو معانی بتائے جاتے ہیں، وہ قلب کو مطمئن کرنے والے نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مفسرین نے بہت سے معانی کئے ہیں جو لوگوں کی نگاہ میں اس سورۃ کو حل کر دیتے ہیں۔مگر میری اپنی نگاہ میں وہ اطمینان بخش معانی نہیں تھے اور اس لئے ہمیشہ ایک بے چینی سی میرے اندر پائی جاتی تھی۔میں سوچتا اور غور کرتا مگر جو بھی معنے میرے ذہن میں آتے اُن کو مزید غور کے بعد میں خود ہی رد کر دیتا اور کہتا کہ یہ درست نہیں ہیں۔آخر بڑی مدتوں کے بعد ایک دفعہ جب میں عورتوں میں قرآن کریم کے آخری پارہ کا درس دینے لگا تو اس کا ایک حصہ حل ہوگیا۔مگر پھر بھی وصل ہوا وہ صرف ایک حصہ ہی تھا۔مکمل مضمون نہیں تھا۔جو معنے مجھ پر اس وقت روشن ہوئے ان سے پاروں کھونٹے قائم نہیں ہوتے تھے۔دو تو بن جاتے تھے مگر دورہ جاتے تھے۔یہ حالت چلتی چلی گئی اور مجھے کامل طور پر اس کے معانی کے متعلق اطمینان حاصل نہ ہوا۔اب جو میں نے درس دینا شروع کیا تو پھر یہ سورۃ میرے سامنے آگئی (یعنی سورۃ الفجر ناقل ) اور میں نے اس پر غور کرنا شروع کر دیا۔میں نے آخری پارے کا درس جولائی اور میں شروع کیا تھا۔اور ڈلہوزی میں اس کی ابتداء کی تھی۔اس وقت سے لے کر اب تک کئی دفعہ اس سورۃ پر نظر ڈالی اور مجھے سخت فکر ہوا کہ اس سورۃ کا درس تو قریب آرہا ہے مگر ابھی اس کے معافی ترتیب سوز کے لحاظ سے مجھے پر روشن نہیں ہوئے۔بار بارہ میں اس سورۃ کو دیکھتا ، اس کے مطالب پر غوبہ کرتا اور کوئی مضمون میرے ذہن میں بھی آجاتا۔مگر پھر سوچتے سوچتے میں اس کو ناکافی قرار دے دیتا۔غرض بیسیوں دفعہ میں نے اس سورۃ پر نگاہ دوڑائی مگر مجھے اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہوئی پہان تک کہ سورۃ الغاشیہ کے درس کا وقت آگیا۔اور میں اس کے نوٹ لکھنے لگا۔مگر اس وقت