تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 151 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 151

۱۴۴ آخری پارہ کی پہلی جلد کے دیباچہ میں رقم فرمایا کہ پارہ غم کی تفسیر کی طباعت کے لئے میں نے دس ہزار روپیہ دیا ہے اور یہ پارہ اس رقم سے شائع کیا جائے گا۔یہ رقم اور اس کا منافع بطور صدقہ جاریہ میری مرحومہ بیوی مریم بیگم ام طاہر عمر الله لَهَا وَاحْسَنَ منوبھا کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے وقف رہے گا اور اس کی آمد سے قرآن کریم ، احادیث اور سلسلہ احمدیہ کی ایسی کتب ہو تائید اسلام کے لئے لکھی جائیں۔شائع کی جاتی رہیں گی اور اس کا انتظام تحریک جدید کے ماتحت رہے گا۔اللہ تعالے اس صدقہ جاریہ کو مرحومہ کی درجات کی بلندی اور قرب الہی کا موجب بنائے “ سے میں تفسیر کبیر کے مسودات کی حفاظت کا امام کا کیا بتایا ہے کہ معدہ ہندوستانی اس کی دو جلدیں ہی شائع ہوئی تھیں اور بقیہ جلدوں کے مستورات (تا سورۃ العمرة، اشاعت کے بغیر پڑے تھے کہ ہندوستان تقسیم ہو گیا جس پر حضر امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی نے ابو المنیر مولوی نور الحق صاحب کو بتاریخ ۲ ظهور/ اگست ۳۲۶ میش مسودات تفسیر دے کر لاہور بھیجوا دیا۔چنانچہ آپ کا بیان ہے :- "پاکستان کے قیام پر فسادات کے پیش نظر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلا قافلہ ہم کو لاہور بھجوایا تھا۔اس میں حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین مبارکہ تھیں اور خاندان کے صرف چند ایک مرد فرد تھے۔اس قافلہ میں حضور نے مجھے بھی شامل فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ تفسیر کبیر کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ سب مسودات لے کر لاہور پہنچوں چنانچہ خاکساران سب مسودات کو لے کر لاہور پہنچ گیا حضور نے یہ سب اس لئے کیا۔تا ایسا نہ ہو کہ مسودات ضائع ہو جائیں " ازاں بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی خود بھی ۳۱ ظہور / اگست پیش کو ہجرت کر کے پاکستان ۱۳۳۶ 1190 تشریف لے آئے۔یہاں پہنچتے ہی آپ نے بین امور کی طرفت فوری توجہ فرمائی اُن میں تفسیر کا کام بھی تھا۔چنانچہ حضرت امیر المومنین نے مورخہ ۳ تبوک استمبر سال پیش حضرت میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ له حضرت تخلیقة أمسیح الثانی کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں تفسیر کبیر دپارہ ہم) کی پہلی تین جلدیں دفتر تحر یک جدید نے شائع کیں مگر چو تھی جلد ام مظاہر ٹیسٹ کے لئے الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ کی نگرانی میں طبع ہوئی ،