تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 142
۱۳۹ یہ تمام پک کر کم سے کم ۳۔ہم ہزار کا مطالبہ اور ہوتا۔مگر ہوا یہ کہ قریباً ۲۴۰۰ جماعت میں فروخت ہوئی اور باقی پانچ سو دوسروں نے لی۔مجھے امید ہے کہ آئندہ جماعت ایسی غفلت نہ کرے گی۔۔۔۔یہ تفسیر ایک بہترین تحفہ ہے جو دوست دوست کو دے سکتا ہے۔ایک بہترین تحفہ ہے جو خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو دے سکتی ہے۔باپ بیٹے کو دے سکتا ہے۔بھائی بہن کو دے سکتا ہے۔یہ بہترین جہیز ہے جو لڑکیوں کو دیا تھا سکتا ہے۔" چونکہ تفسیر کبیر کی اشاعت محض قرآنی علوم و انوار کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے تغیر کی جلد سوم کا ہدی ی کی غرض سے ہوئی تھی اور کوئی ذاتی مقصد مد نظر نہیں تھا اس لئے حضرت تعلیقہ آسیح الثانی نے جنگ کی ہوشربا گرانی کے باوجود اس کا ہدیہ ابتداء صرف پانچ روپے مقرر فرمایا مگر بعد کو جب حجم اندازہ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا مزید ایک روپیہ کا اضافہ کر دیا گیا ہاں پیشگی رقم دینے والو کی کے پانچ روپے میں ہی کتاب دی گئی۔تفسیر کبیر بہت جلد نایاب ہو گئی اور پہلے آٹھ دس پھر بھیں اور بعدازان سو سو روپے میں فروخت ہوئی چنانچہ حضور انور نے مجلس مشاورت لہ بہش کے دوران خود یہ واقعہ ۶۱۹۴۵ بیان فرمایا کہ پر سوتی ہی میرے پاس عراق سے ایک خط آیا جسے پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔وہاں ایک امری ڈاکٹر ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے تفسیر کبیر ایک غیر احمدی ڈاکٹر نے پڑھنے کے لئے لی تھی۔کچھ عرصہ کے بعد اُن کا تبادلہ ہو گیا اور میں نے اپنی کتاب واپس لے لی۔انہیں معلوم ہوا کہ ایک اور احمدی کے پاس یہ کتاب ہے۔چنانچہ وہ غیر احمدی ڈاکٹر اس کے پاس گئے اور ایک سو روپیہ میں انہوں نے یہ کتاب اس سے خرید لی " " یہی نہیں ایک وقت ایسا بھی آیا جبکہ بعض غیر احمدی شائقین نے ایک سو روپیہ دینے کی پیشکش "" الفضل ۱۵ صلح جنوری همایش صفحه ۱-۲+ " صفحه ۲ - کالم ۲ * مورخه ۲۸ / امان / مارچ ۱۳۲۲ مه بهش : ۱۱۹۴۵ * یہ کرنیل بھی تھے ( الفضل " ۳ شہادت / اپریل پیش صفحہ ، کالم +1909 1 رپورٹ پیلس مشاورت منعقده ۳۰-۳۱ رایان و حیکم شهادت / اپریل ۳۲۴ه مش صفحه ۳۹-۴۰ : یار و