تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 141
۱۳۸ اور جب تک ان سب نے نہیں خریدی مجھے اطمینان نہیں ہوا۔میں نے تو خود سر سے پہلے اسے خریدا اور حق تصنیف کے طور پر اس کا ایک بھی نسخہ لینا پسند نہیں کیا کیونکہ میں اس پر اپنا کوئی حق نہ سمجھتا تھا میں نے سوچا کہ مجھے علم خدا تعالیٰ نے دیا ہے وقت بھی اسی نے دیا ہے اور اسی کی توفیق سے میں یہ کام کرنے کے قابل ہوا۔پھر میرا اس پر کیا حق ہے اور میرے لئے یہی مناسب ہے کہ خود بھی اسے اسی طرح شمریدوں جس طرح دوسرے لوگ خریدتے ہیں۔افسوس ہے کہ بعض بڑے بڑے شہروں کی جماعتوں نے بھی اس کی طرف بہت کم توجہ کی ہے۔میں تمام جماعتوں کی خریداری کی فہرست سُنا دیتا ہوں۔اس سے احباب اندازہ کر سکیں گے کہ کس کیس نے اس کی اشاعت کی طرف توجہ کی ہے۔ضلع گورداسپور ۶۰۷۔اس میں سے قادیان میں ۵۷۲ اور باقی مضلع میں ۲۵ فروخت ہوئیں :۔۔دہلی ۵۲ ۰۰۰ امرتسر ۴۶ - به جماعت عام طور پر غرباء کی جماعت ہے اور گو شہر کے لحاظ سے زیادہ چاہیئے لیکن جماعت کی حالت کے لحاظ سے یہ تعداد ایسی بری نہیں۔لائل پور ۵۱۔۔۔ملتان ۷۹ ، شہر اور جماعت کی حالت کے لحاظ سے یہ تعداد اچھی ہے۔شیخو پورہ ۲۰ - ڈیرہ غازیخان ۲۷ - سرگودھا ۳۵ گجرات ۳۷ - سیالکوٹ ۲۷۔۔۔گوجرانوالہ ۱۹ - جہلم -۸- انبالہ جالندھر ۳ ۷ جھنگ ، میانوالی - فیروز پور ۲۰ - گوڑ کا نواں ۸ رہتک -۱- حصار -۲- ریاست کپورتھلہ ۱۔مالیر کوٹلہ ۲ - شملہ ۲- جے پور ۳ - جودھ پور ۳- حیدر آباد سکندر آباد ۲۴۷۱ مگر میرا خیال ہے یہ تعداد ۳۱۰ ہے۔معلوم نہیں دفتر نے کس طرح غلط رپورٹ کی ہے۔صوبہ سرحد - 44 - مدراس - - بہار -۲۳ بمبئی - - یوپی ۱۱ - رامپور ۴۔سی پی ۱۴- ہے۔نوان نگیر ۱۰۰ - مانگرول ۲ - بذریعہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے - ۵۹۶ - - پریا ۲۴۴ عراق ۲- فلسطين - جاوا اسما ما ہم یہ کل تعداد ۲۹۰۹ ہے۔اسے دیکھ کر دوست اندازہ کر سکتے ہیں کہ جماعت نے زیادہ کوشش نہیں کی۔چاہئیے تو یہ تھا کہ جماعت میں ہی ہ و سے یاد رہے انفرادی طور پر جن احمدیوں نے تفسیر کبیر کی اشاعت میں نمایاں حصہ لیا ان میں سرفہرست چودھری محمد ظفر اللہ خانصاحب اور دوسرے نمبر پر سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آبادی تھے۔