تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 112
1۔9 جماعت احمدیہ کے نظام اور اس کے صلح کن اصولوں کی تعظیم اسان اخلاقی فتح تھی جس کا اعتراف مشہور سکھ اختیار نویس سردار دیوان سنگھ احمدیوں کی امن پسند کیا اعترا) صاحب مفتون نے اپنے اخبار سیاست دہلی (۲ دسمبر ) میں بھی کیا بچنا نچہ انہوں نے صاف لکھا کہ مسلمانوں میں غالباً احمدیوں کا ہی ایک ایسا فرقہ ہے جو گورو نانک اور سری کرشن وغیرہ غیر مسلم بزرگوں کو پیغمبر سمجھتے ہوئے اُن کی عزت کرتا ہے اور قادیان کی احمدی جماعت کا یہ ملک پر بہت بڑا احسان ہے جس نے ہند و مسلم اتحاد کی اس راہ کو اختیار کیا۔احمدیوں کی اس قابل تعریف سپرسٹ میں اتفاق پسند حلقوں کے اندر یہ انتہائی افسوس کے ساتھ سُنا جائے گا کہ پچھلے ہفتے جب سکھوں نے قادیا سے دومیل کے فاصلہ پر اکالی کا نفرنس کی تو سکھوں کے غیر دوستانہ اور تحکمانہ رویہ کے باعث قادیان کے احمدی حضرات نے اپنے بچوں اور عورتوں کو گھروں سے نکلنے کی مانعت کر دی تاکہ فساد نہ ہو اور سکھوں کو اگر احمدیوں کے خلاف کوئی دوسری شکایت نہیں تو اب یہ کہا جا رہا ہے کہ احمدی گورو نانک کو مسلمان کہ کر سکھوں کی توہین کر رہے ہیں۔ہمیں یاد ہے چند برس ہوئے سکھوں نے ایک احمدی کے خلاف اس الزام میں مقدمہ بھی دائر کیا تھا کہ اس نے گورو نانک کو مسلمان کہا۔اور ہم نے اس مقدمہ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سکھوں سے پوچھا تھا کہ اگر کسی نیک مسلمان کو کوئی سکھ یہ کہہ دے کہ آپ تو نیکی کے لحاظ سے سکھ ہیں “ تو کیا اس مسلمان کی تو مین ہوگی۔اسی طرح ہی ہم سکھوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر احمدی گورو نانک سے اظہار محبت کرتے اور اپنا سمجھتے ہوئے گورو صاحب کو مسلمان کہتے ہیں تو اس میں سکھوں کی توہین ہے یا احمدی حضرات کے اخلاص و محبت کا انتہائی ثبوت! ہمیں افسوس ہے کہ سکھوں کا قادیان کی اکالی کا نفرنس میں احمدیوں کے خلاف تحکمانہ رویہ اختیا کونا یا دوستانہ سپرٹ کا ثبوت نہ دینا استحاد پسند حلقوں میں پرچھا گردی اور وحشیانہ پن قرار دیا جا سکتا ہے۔کیونکہ اشاعت مذہب اور اشاعت خیالات کے لئے ضروری ہے کہ رواداری اور محبت کا اظہار ہوتا کہ لوگ اس سے متاثر ہو سکیں نہ کہ غنڈہ پن کا جس سے کہ لوگ نفرت کریں" ے بحوالہ اخبار الفضل فتح / دسمبر بارش صفحه ۱-۲-