تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 96 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 96

پاس کے لوگوں کو کیوں نہیں بدل سکتے۔خدا تعالیٰ نے اسی لئے قرآن مجید میں فرمایا ہے ، کہ كونوا مع الصادقین یعنی اگر تم اپنے اندر تقویٰ کا رنگ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس کا گریہی ہے کہ صادقوں کی مجلس اختیار کرو تا کہ تمہارے اندر بھی تقویٰ کا وہی رنگ تمہارے نیک ہمسایہ کے اثر کے ماتحت پیدا ہو بھائے جو اُس میں پایا جاتا ہے۔پس جماعت کی تنظیم اور جماعت کے اندر دینی روح کے قیام اور اس روح کو زندہ رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کی کوشش کرے کیونکہ ہمسایہ کی اصلاح میں اس کی اپنی اصلاح ہے۔ہر شخص جو اپنے آپ کو اس سے مستغنی سمجھتا ہے وہ اپنی روحانی ترقی کے راستہ میں نمود روک بنتا ہے۔بڑے سے بڑا انسان بھی مزید روحانی ترقی کا محتاج ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخر دم تک اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت علیھم کی دعا کرتے رہے۔پس اگر خدا کا وہ نبی جو پہلوں اور کچھپلوں کا سردار ہے جس کی رُوحانیت کے معیار کے مطابق نہ کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہوگا اور جس نے خدا تعالے کا ایسا قرب حاصل کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی اور نہ مل سکتی ہے۔اگر وہ بھی مدارج پر مدارج حاصل کرنے کے بعد پھر مزید روحانی ترقی کا محتاج ہے اور روزانہ خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو کر اعلمنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم کہتا ہے اکیلا نہیں بلکہ ساتھیوں کو ساتھ لے کر کہتا ہے تو آج کون ایسا انسان ہو سکتا ہے جو خدا تعالی کے سامنے کھڑا ہوکر اهدنا الصراط المستقیم کہنے سے اور جماعت میں کھڑے ہو کر کہنے سے اپنے آپ کو مستغنی قرار دے۔اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے مستغنی قرار دیتا ہے تو وہ اپنے لئے ایک ایسا مقام تجویز کرتا ہے جو مقام خدا تعالیٰ نے کسی انسان کے لئے تجویز نہیں کیا۔پس جو شخص اپنے لئے ایسا مقام تجویز کرتا ہے وہ ضرور کھو کر کھائے گا۔کیونکہ اس قسم کا استغناء عزت نہیں بلکہ ذلت ہے۔ایمان کی علامت نہیں بلکہ وہ شخص کفر کے دروازے کی طرف بھاگا جارہا ہے۔پس تنظیم کے لئے ضروری ہے کہ اپنے متعلقات اور اپنے گردو پیش کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔اس سے انسان کی اپنی اصلاح ہوتی ہے۔اس سے قوم میں زندگی پیدا ہوتی