تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 80
24 ا۔قادیان کے انصار کی مردم شماری اور تجنید کے لئے دو ہزار فارم چھپوا لیا جائے۔فارم کا نمونہ حسب ذیل منظور کیا گیا :- نمبر شمار - نام - ولدیت - عمر تعلیم تربیت پیتر - تاریخ (حاشیہ) سابق سکونت - تاریخ ہجرت ( اُن لوگوں کی جو نالہ کے بعد قادیان آئے) -- قادیان کو تین حلقوں میں تقسیم کر کے ان کی نگرانی کا کام مندرجہ ذیل طریق سے تینوں سکرٹریوں کے سپرد کیا گیا :- نام ر حلقہ حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال دار السعر مع کھارا ، دار البرکات مع بھینی دارالانوار مع قادر آباد حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد مسجد مبارک ، مسجد اقصی ، مسجد فضل مع دار الصحت ، ناصر آباد مع ننگل حضرت خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب دار الرحمت ، دارلعلوم مع احمد آباد ، دار الفضل دار الفتوح اخفاء / اکتوبر یہ مہش کو بعض مشکلات کی وجہ کھارا ، بھینی اور نگل کے احباب انصار اللہ کی +190 ہدایات کی پابندیوں سے ایک سال کے لئے مستشنیٰ کر دیئے گئے تھے) له اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہر حلقہ میں سکر ریان اپنے معاون خود مقرر کر لیں گے لے اس پہلے اجلاس کے بعد قادیان کے محلوں میں انصار اللہ کی تنظیم کا عملی دور شروع ہو گیا۔۱۲ ظہور / اگست ریش کو فیصلہ کیا گیا کہ ہر عملہ میں انصار اللہ کے دس دس افراد کے گروپ بنائے جائیں اور ہر ایک گروپ کا ایک ایک لیڈر ہو۔اسی دن کے اجلاس میں شرح چندہ کم از کم ایک آنہ ماہوار رکھی گئی اور قرار پایا کہ جو موت ایک آنہ مار ہوار بھی نہ دے سکیں اُن کو تخفیف یا معافی دینا سکوٹری حلقہ کے اختیار میں ہوگا۔*190 چندہ کی فراہمی کا کام ماہ اضاد اکتو برای پیش سے شروع ہوا۔اور اس کے ساتھ ہی انجمن انصار الله ۶۱۹۴۰ کے نام سے ختہ انہ صدر انجمین احمدیہ میں امانت کا حساب کھولا گیا۔جس کا لین دین صدر مجلس انصاراللہ کے نه ریکارڈ مجلس انصارالله : +