تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 67 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 67

۶۳ ینوری منہ سے لے کر نومبر ۱۳ از یک صوبہ کے پانچ اضلاع کا مکمل تبلیغی سروے یا گیا جو اپنی نوعیت کی جدید چیز تھی۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ہدایت پر قصبات اور دیہات کا جائزہ لینے کے لئے دو قسم کے فارم چھپوانے گئے قصبات کے کوائف معلوم کرنے کی غرض سے زرد رنگ کا دو ورقہ اور عام دیہات کے لئے صرف یک ورقہ۔یہ کام سائیکلوں کے ذریعہ سے کیا جاتا تھا۔ابتداء میں چار سائیکل سوار بھجوائے گئے ایک کے پاس اپنی ذاتی سائیکل تھی۔دو سائیڈ میں بدیہ اور ایک سائیکل دفتر نے خرید کی تھی۔اور جنوری ۹۳ار کو حضور نے تحریک فرمائی له کہ سولہ سائیکلوں کی فوری ضرورت ہے۔اس پر جماعت نے اس کثرت سے سائیکلیں بھیجدیں کہ آئندہ سائیکل نہ بھیجوانے کی ہدایت کرنا پڑی۔اس معاملہ میں جماعت احمدیہ دہلی سب جماعتوں پر سبقت لے گئی ہے اس تبلیغی سروے کی نوعیت و اہمیت کیا تھی ؟ اس کی تفصیل حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی زبان مبارک سے سنئے حضور فرماتے ہیں :- میں نے مختلف اضلاع کی سروے کرائی ہیں۔اور میں چاہتا ہوں جن اضلاع کی سروے کرائی گئی ہے ان میں جو لوہار ترکھان یا پیشہ ور احمدی بیکار ہیں انہیں پھیلا دوں۔تمام گاؤں کے نقشے ہمارے پاس موجو ہیں اور ہر مقام کی لسٹیں ہمارے پاس ہیں جن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ ان گاؤں میں پیشہ وروں اور تاجروں کی کیا حالت ہے۔اسی ذریعہ سے میں چاہتا ہوں کہ اپنی جماعت کے پیشہ ور بیکاروں کو ان علاقوں میں پھیلا دوں جہاں لوہار نہیں وہاں کا ہار بھجوا دیئے بھائیں جہاں معمار نہیں وہان معمار بیٹھا دیئے جائیں جہاں حکم نہیں وہاں حکیم بھجوا دیئے جائیں۔اس سکیم کے ماتحت اگر ہماری جماعت مختلف علاقوں میں پھیل جائے تو یہاں ہمارے بہت سے تبلیغی مرکز ان علاقوں میں قائم ہو سکتے ہیں۔وہاں لوگ بھی مجبور ہوں گے کہ احمدیوں سے کام لیں۔اس طرح اُن کی بیکاری بھی دور ہوگی اور تبلیغی مرکز بھی قائم ہو جائیں گے۔بلکہ لکھے پڑھے لوگ کئی گاؤں میں مدر سے بھی جاری کر سکتے ہیں چنانچہ ہمارے پاس ایسی بیسیوں ریسٹین موجود ہیں جہاں مدرسوں کی ضرورت ہے یا حکیموں کی ضرورت ہے یا کمپونڈروں کی ضرورت ہے مگر انہیں مدرس حکیم اور کمیونڈر نہیں ملتے۔اسی طرح ہندوستان سے باہر بھی ہم لبعض پیشہ وروں کو بھیجنا چاہتے ہیں بہنا الفضل و نوبر ہ۔اس عرصہ میں چھٹے ضلع کی ایک تحصیل کے ساٹھ گاؤں میں بھی جائزہ لیا جا چکا تھا ہے لله الفضل هم سر جنوری ۱۹۳۵ و صفحه ۵ کالم ۱-۲ : له ه " الفضل " ۱۴ فروری ۱۹۳۵ صفحه ۲ کالم ۹۳ " ١٩٣٥