تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 652
۶۲۵ شیخ محمود آئی اور شیخ محمدالحد دی۔یہ چار علماء رکن مقرر ہوئے۔یہ اطلاع ہندوستان میں پہنچی تو پروفیسر حمد الیاس برنی صاحب صدر شعبہ معاشیات جامو عثمانیہ حیدر آباد دکن نے کمیٹی کے علماء کے علاوہ اخبار الفتح کے مالک و مدیر سید محب الدین الخلیہ سے رابطہ قائم کر کے احمدیت کے خلاف مواد عربی میں ترجمہ کر کے بھیجا۔نتیجہ یہ ہوا۔کہ مصری اخبارات (الفتح - الدستور ) میں احمدیت کے خلاف بحث چل نکلی تحقیقاتی کمیٹی رنجتہ الحقیق نے کیا فتوی صادر فرمایا ؟ اس کی نسبت پر و فیسر محمد الیاس برنی صاحب تحریر کرتے ہیں :- الانہ اتحقیق نے ہر طرح خوب تحقیق کی۔اور حقیقی پختہ ہو جانے پر دونوں قادیانی البانوی طلبہ کو کلیرا مول دین سے خارج کر دیا کہ سلمانوں کے سوا اور کوئی اس کلیتہ میں تعلیم نہیں پاسکتے۔اس فیصلہ کے بہت جلد بجد شیخ انداز ہرمحمد مصطفی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔- احمد افندی علی جو جماعت احمدیہ مصر کے ابتدائی مخلف ارکان میں سے تھے اور سنت میں داخل احدیت ہوئے تھے خلیفہ وقت کی زیارت کے لئے ہر راگست شہد کو قاہرہ سے قادیان تشریف لائے کیے اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی اور دستر بزرگان سلسلہ سے ملاقات کرنے اور مرکز احدیت کی فیوض سے متمتع ہونے کے بعد ۲۶ اگست شادو کو عازم مصر ہو گئے۔احمد علی کا یہ سفران کے اندر ایک تغیر عظیم پیدا کرنیکا موجب ہو ا۔اور وہ جماعتی کاموں میں پہلے سے بھی زیادہ دلچسپی لینے لگے۔ان کی والدہ ایک اعلی پایہ کی تعلیم انتخاتون تھیں اور ہمیشہ احمدی مبلغوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتی رہتی تھیں۔مگر اب صرف ان کے اندر غیر معمولی تبدیلی دیکھیکہ کسی بحث و مباحثہ کے بغیر از خود داخل احمدیت ہو گئیں۔ہے فلسطین میشن:۔اس سال فلسطین کے دہشت انگیزوں (نوار) نے بعض فلسطینی احمدیوں کے قتل کا فتوی جاری کر دیا۔مگر چند ایام ہی گزرے تھے کہ ان ظالموں کا لیڈر قتل کر دیا گیا۔شے د میں خلافت جوابی کے باعث متعد دنٹی علمی کتا بیں شائع کی گئیں ۱۹۳۹ء کی تنی مطبوعات جن سے احمدیہ لٹریچر میں شاندار اضافہ ہوا۔اس سالی کی رہے نمایاں کتاب سلسلہ احمدیہ تھی جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحت نے تصنیف فرمائی جس میں آپ نے اختصار مگر نہایت جامعیت سے سلسلہ احمدیہ کی پچاس سالہ تاریخ کے علاوہ اسکے الفضل دراگ با کالم را که الفضل ۲۹ را سرد را کالم مرا ے رپورٹ سالانه صیغه جات صدر انجمن احمدیه - از یکم مئی و در نهایت ۳۰ ر ا پریل شارد تا به ه الفضل ۲۸ اکتوبر ۳ اره ملت ملخصاً بن ہے