تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 638 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 638

411 راس حکم کے ماتحت یہ حدیث آپ تک پہنچانا ہوں۔آپ کو چاہیے کہ اس حکم کے ماتخت آپ آگے دوسرے بھائیوں تک مناسب موقع پر یہ حدیث پہنچادیں۔اور انہیں سمجھادیں کہ ہر شخص جو یہ حدیث سنے۔اُسے حکم ہو کہ وہ آگے دوسرے مسلمان بھائی تک اسکو پہنچاتا چلا جائے۔واسلام خاکستر : مرزا محمود احمد خليفة المسيح" له " جلسہ خلافت جو بلی کے انتظامات حسب ذیل تین مقامات い جلات خلافت جوبلی کے انتظامات کئے گئے :۔(1) اندرون قصبہ (۲) محلہ دار العلوم پر اور (۳) محلہ دار الفضل میں۔دارالعلوم کے کچن سے حسب معمول محلہ دارالرحمت کے مہمانوں کیلئے۔اور دارالفضل کے کچن سے محلہ دار البرکات کے مہمانوں کو کھانا دیا جاتا رہا۔اندرون قصبہ کے لنگر خانہ ہیں ۳۷ دارالعلوم میں ۱۵۰ ۵۰ اور دارالفضل میں ۲۶ تنوروں پر دن رات روٹیاں پکائی جائیں۔ان انتظار امت کے علاوہ محلہ دار الانوار میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے ما تخت خاص انتظام بھی تھا۔عام انتظامات کی صورت یہ تھی کہ افسر جلس سیپانا نہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب تھے۔ان کے اتحت ہرسہ مقامات پر تین ناظم تھے۔یعنی اندرون قصبہ حضرت ماسٹر محمد طفیل خان صاحب۔دار العلوم میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور دار الفضل میں مکرم ماسٹر علی محمد صاحب۔ان کے ساتھ متعدد نائب اور پھر ان کے معاون تھے۔پہرہ کا انتظامہ نیشنل لیگ کور کے سپرد تھا۔مقامی نیشنل لیگ کو ر کے والنٹیئرز اپنے سالار اعظم چو ہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹرایٹ لاء اور سالار جیش جناب مرزا گل محمد صاحب کے ماتحت کام کرتے تھے مختلف راستوں پر آنے جانے والے مہمانوں کو راستہ بنانا۔جلسگاہ میں بھانے کیلئے مستورات اور مردوں کیلئے علیحدہ علیحدہ راستے مقرر کرنا۔اور حضرت امیر المومنین کے جلسہ گاہ میں تشریف لے جانے اور واپس آنے کے وقت پہرہ کا انتظام اُنکے سپرد تھا۔انکوائری آفس ہرسہ مقامات پر علیحدہ علیحدہ تھے۔جو چوبیس گھنٹے کھلے رہتے۔اور مہمانوں کو ہر قسم کی معلومات بہم پہنچاتے۔گم شدہ اشیاء اور بچوں کی نگہداشت رکھتے۔نیز پرائیویٹ مکانات میں مہمانوں کو پہنچاتے تھے۔الے بر الفضل سر جنوری ۱۹۳ ۶ صفحه ::