تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 635
۶۰۸ گئے تھے۔کپڑا اسیاہ ساٹن کا تھا۔اے 1979 جماعت احمدیہ کو نظام خلاف ہے وابستہ رہنے حضرت امیرالمونین نے سامان بین مشاور پر نوائے احمدیت کی پرچم کشائی کے علاوہ ۲۸۔۱۲۹ اور اس کے لئے دعائیں کرنے کی وصیت پر اشارہ کو خلافت راشدہ کے عنوان پر دسمبر او ایک محرکة الآراء تقریر فرمائی جو ہیں اسلامی نظام خلافت پر نہایت شرح و بسط سے روشنی ڈالی۔اور اسپر وارد کئے جانے والے اعتراضات کے مفصل اور مسکت جوابات دینے کے بعد جماعت احمدیہ کو نظام خلافت کی قدر کرنے اور اس کے دائمی طور پر قائم رہنے کی ہمیشہ دعائیں کرتے رہنے کی وصیت فرمائی۔چنانچہ حضور نے فرمایا : جہاں تنگ خلافت کا تعلق میرے ساتھہ ہے۔اور جہانتک اس خلافت کا اُن خلفاء کے ساتھ تعلق ہے۔جو فوت ہو چکے ہیں۔ان دونوں میں ایک امتیاز اور فرق ہے۔اُن کے ساتھ تو خلافت کی بحث کا علمی تعلق ہے۔اور میرے ساتھ نشانات خلافت کا معجزاتی تعلق ہے۔پس میرے لئے اس بحث سے کوئی حقیقت نہیں۔کہ کوئی آیت میری خلافت پر چسپاں ہوتی ہے یا نہیں۔میرے لئے خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات اور اُس کے زندہ معجزات اِس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ مجھے خُدا نے خلیفہ بنایا ہے۔اور کوئی شخص نہیں جو میرا مقابلہ کر سکے۔اگر تم میں کوئی ماں کا بیٹا ایسا موجود ہے جو میرا مقابلہ کرنے کا شوق اپنے دل میں رکھتا ہو تو وہ اب میرے مقابلہ میں اُٹھ کر دیکھ لے۔خدا اُس کو ذلیل اور رسوا کرے گا۔بلکہ اُسے ہی نہیں۔اگر دنیا جہان کی تمام طاقتیں مل کر بھی میری خلافت کو نابود کرنا چاہیں گی۔تو خدا ان کو مچھر کی طرح مسل دیگا۔اور ہر ایک جو میرے مقابلہ میں اُٹھے گا۔گرا یا جائے گا۔جو میرے خلاف بولے گا۔خاموش کرایا جائیگا۔اور جو مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کریگا۔وہ خود ذلیل و رسوا ہو گا۔پس اسے مومنوں کی جماعت ! اور اسے عمل صالح کرنے والو ! میں تم سے یہ کہتا ہوں۔کہ الفضل ٣ جنوری 19 صفحه ۲ کالم