تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 634
اور تھوڑی دیر کے بعد جب تمام مجمع نے اچھی طرح دیکھ لیا۔تو ہوا پھر تھم گئی۔اس تقریب کی تکمیل کے بعد حضور احکاری لائے احمدیت بلند کرنیکے بعدجماع سے اقرار سعی بر تشریف لائے اور اسباب پر جماعت سے وہ اقرار نا مہ لیا۔جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔اے استخدام الاحمدیہ کا جھنڈا از ان بین صورت ۱۲ بجگر ۱۲ منٹ پر مجلس خدام الاحمدیہ کا بھنڈا بلند فرمایا۔اس کے لئے بھی سٹیج کے شمال مغربی کونہ کے ساتھ لکڑی کا پول چبوترہ بنا کر کھڑا کیا گیا تھا۔یہ جھنڈا سیاہ رنگ کے کپڑے کا تھا۔جسپر چھے سفید دھاریاں ہیں۔درمیان میں منارة المسیح۔ایک طرف بدر۔اور دوسری طرف ہلال کا نشان تھا تھا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا۔اس وقت سے اس جھنڈے کی مخالفت احمدیہ جھنڈے کی کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ بارہ آدمیوں کا پہرہ مقرر کرے۔اور کل نمابر حفاظت کا انتظام جمعہ کے بعد ایسے دو ناظروں کے سپرد کردے۔جو اس کی حفاظت کے ذفتنہ دار ہوں گے۔وہ نہایت مضبوط تالہ میں رکھیں جس کی دو چابیاں ہوں اور وہ دونوں ملکر اسے کھول سکیں۔بجاکر ۲۵ منٹ پر اس اجلاس کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔لے حضرت امیر المؤمنین مردانہ جلسہ میں لوائے احمدیت اور لوائے خدام الاحمدیہ نہر اپنے کے بعد زمانہ جامعہ گاہ میں تشریف لائے اور دُعا کرتے ہوئے خواتین جماعت احمدیہ کا بھنڈا اپنے دست مبارک سے لہرایا۔جھنڈے کا بانس ۳۵ فٹ لمبا اور اس کا کپڑا پونے چار گز لمبا اور سوا دوگر چوڑا تھا۔جس پر لوائے احمدیت کے علاوہ کھجور کے تین درخت بھی تھے۔جن کے نیچے چشمہ تھا۔اس جھنڈے کے نقوش ریشم کے مختلف رنگ کے دھاگوں کے تھے۔جو مشین سے کاڑھے ان حضرت خلیفہ مسیح الثانی ہونے والے احمدیت اپنے دست مبارک سے 4 بجکر دس منٹ پر رتی سے باندھا۔دیو بھکر گیارہ منٹ پر بلند کرنا شروع کیا اور حضور کے ہاتھوں کی تین مرتبہ کی جنبش سے دو بجکر بارہ منٹ پر جھنڈا پول کی اُونچائی تک پہ اس دوران میں حضور رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ پڑھتے رہے اور عام مجھ کو پڑھتے رہنے کا ارشاد فرمایا۔اور دو بجکر 3 منٹ پر حضور نے جھنڈے کی رسی کو ستون یا ند ھنا شروع کیا اور ہ بھیرہ منٹ پر باندھ چکے لیے الفضل میں تمہیں لکھا گیا ہے۔اصل میں تین معلوم ہوتا ہے۔ان الفضل در جنوری را و صفحه ۲ کالم ہے الفضل ۲ جنوری ۱۹۴۰ صفحہ ۸-۹ ۳ یہ جھنڈا افسوس اپریل ۱۹۴۸ء میں لاہور سے ربوہ کے درمیان گاڑی میں کہیں کھو گیا نقشہ جو سید عبد الباسط صاحب نے بنوا کر دیا تھا حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کے پاس محفوظ ہے اور ضمیمہ ۵۶ پر بھی موجود ہے۔دوم :