تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 623
۵۹۸ ان کو نہیں طلال بنیں بہنیں جلدوں کی تفسیر میں ہیں۔مگر میں نے کبھی ان کو بالاستیعاب دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔اور ان کے مطالعہ میں مجھے کبھی لذت محسوس نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ مجھے قرآن کریم کے چھوٹے سے لفظ میں ایسے مطالب پیکھا دیتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں میں ان کتابوں کے مطالعہ میں کیوں وقت ضائع کروں۔او کبھی کوئی مسئلہ وغیرہ دیکھنے کے لئے اُن کو دیکھتا ہوں۔تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس مقام کو بہت دور کھڑے ہیں جواللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء کیا ہے۔اور یہ سب اُس کا فضل ہے۔ورنہ بظاہر میں نے دنیا میں کوئی علم حاصل نہیں کیا۔سمتی کہ اپنی زبان تک بھی بھی نہیں سیکھی۔یہ اللہ تعالی کا احسان اور فضول ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو قبول کر کے اس نے مجھے ایک ایسا گر بتا دیا کہ جس سے مجھے ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت حاصل ہو جاتی ہے۔لیکن ہمیشہ یہی کہا کرتا ہوں کہ میں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ہتھیار کی مانند ہوں۔اور میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ کوئی چیز چاہیئے اور اس نے مجھے نہ دی ہو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ اس سے براندھیرا در ہو۔دشمنوں کی طرف سے مجھ پر کی حملے کئے گئے۔اعتراضات کئے گئے اور کہا کہ ہم خلافت کو مٹادینگے اور یہی وہ اندھیرا تھا۔جسے اللہ تعالی نے ڈور کردیا۔اور خلافت جوبلی کی تقریب منانے کے متعلق میرے دل میںجو انقباض تھا۔وہ اس وقت یہ نظم سنکر دور ہوگیا۔اور میں نے سمجھا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی پیش گوئی کے پورا ہونے کا اظہار ہو رہا ہے۔دشمنوں نے کہا کہ ہم جماعت کو چھ لینگے مگراللہ تعالی نے فرمایاکہ ہم اور بھی زیادہ لوگوں کو ائیں گے۔اورجب ہم روشنی کرنا چاہیں توکوئی اندھیرارہ نہیں سکتا اور اس طرح اس تقریب کے متعلق میرے دل میں جو انقباض تھا۔وہ یہ نظارہ دیکر دور ہوگیا۔ورنہ مجھے تو شرم آتی ہو کہ میری طرف یہ تقریب منسوب ہو۔مگر ہمارے سب کام اللہ تعالی کیلئے ہیں۔اور اسکے ذریعہ چونکہ الہ تعالی کی باتیں پوری ہوتی ہیں۔اسلئے اسکے منانے میں کوئی حرج نہیں۔یہ سب کام اللہ تعالے کے ہیں۔اگر وہ نہ کرتا۔تو مجھ میں طاقت تھی اور نہ آپ میں نہ میرے علم نے کوئی کام کیا اورنہ آپکی قربانی نے۔جو کچھ ہوا۔خدا کے فضل سے ہوا۔اور ہم خوش ہیںکہ اللہ تعالی نے ایک اور نشان دکھا یا۔دنیا نے چاہا۔کہ ہمیں مٹا دیں مگر خدا تعالی نے نہ مٹایا۔اور یہ نظارہ دیکھ کر میرے دل میں جو انقباض تھا۔وہ سب دُور ہو گیا۔اس لئے جن دوستوں نے اس تقریب پر اپنی انجمنوں کی طرف سے ایڈریس پڑھتے ہیں۔مثلاً کچو ہدری سر م ظفراله خان صاحب پروفیسر عطاء الرحمن صاحب محکیم خلیل احمد صاحب چو ہدری ابوالہاشم خان صاب حانی جنود اللہ صاحب اسی طرح دمشق - جاوا - سماٹرا اور علی گڑھ اور بعض دوسری جگہوں کے دوستوں نے