تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 622 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 622

046 نہیں بنا سکتا۔مگر جو بناتے ہیں وہ ترکھانوں میں سے ہی ہوتے ہیں۔لوہاروں میں سے نہیں۔پھر ہر انجینئر ماہر فن نہیں۔مگر جو ہوتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔ہر مار دیتی اور لاہور کی شاہی مساجد اور تاج محل " نہیں بنا سکتا۔مگر ان کے بنانے والے بھی معماروں میں سے ہوتے ہیں۔کپڑا بننے والوں میں سے نہیں ہوتے۔پس ہرفن کیا جانے والا ماہر نہیں ہوتا۔گر جو باہر نکلتے ہیں۔وہ انہیں میں سے ہوتے ہیں۔مگر جب حضرت بی موعود علیہ السلام نے یہ دعاکی۔اس وقت میں ظاہری حالات کے لحاظ سے اپنے اندر کوئی بھی اہمیت نہ رکھتا تھا لیکن اس وقت اس امین کو سُن کر میں نے کہا۔کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دعائیں رکن ہیں۔جب یہ دعائیں کی گئیں۔میں معمولی ریڈریں بھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔مگر اب خدا تعالٰی کا ایسا افضل ہے کہ میں کسی علم کی کیوں نہ ہو۔انگریزی کی مشکل سے مشکل کتاب پڑھ سکتا ہوں اور سمجھ سکتا ہوں۔اور گوئیں انگریزی لکھ نہیں سکتا۔مگر بی اے اور ایم اے پاس شدہ لوگوں کی غلطیاں خوب نکال سکتا ہوں۔دینی علوم میں میں نے قرآن کریم کا ترجمہ حضرت خلیفہ اول سے پڑھا ہے اور اس طرح پڑھا ہے کہ اور کوئی اس طرح پڑھے تو کچھ بھی نہ سیکھ سکے۔پہلے تو ایک ماہ میں آپنے مجھے دو تین سیپارے آہستہ آہستہ پڑھائے ، اور پھر فرمایا۔میاں آپ بیمار رہتے ہیں۔میری اپنی صحت کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔آپ کیوں نہ ختم کر دیں۔اور مہینہ بھر میں سارا قرآن کریم مجھے تم کرا دیا اور ان تعالی کا فضل تھا۔پھر کچھ ان کی نیت اور کچھ میری نیت ایسی مبارک گھڑی میں ملیں۔کہ دہ تعلیم ایک ایسا ہی ثابت ہوا۔جو برابر بڑھتا جارہا ہے۔اس طرح بخاری آپ نے مجھے تین ماہ میں پڑھائی اور ایسی جلدی جلدی پڑھاتے کہ باہر کے بعض دوست کہتے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔میں اگر کوئی سوال کرتا۔تو آپ فرماتے پڑھتے جاؤ۔اللہ تعالی خود سب کچھ سمجھا دے گا۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو کریدنے کی بہت عادت تھی۔اور ان کا دماغ بھی منطقی تھا۔وہ درس میں شامل تو نہیں تھے۔مگر جب مجھے پڑھتے دیکھا تو اگر بیٹھنے لگے اور سوالات دریافت کرتے۔اُن کو دیکھ کر مجھے بھی جوش آیا اور میں نے اسی طرح سوالات پوچھنے شروع کر دیئے۔ایک دو دن تو آپ نے جواب دیا۔اور پھر فرمایا۔تم بھی حافظ صاحب کی نقل کرنے لگے ہو۔مجھے جو کچھ آتا ہے وہ خود بنا دوں گا۔بخل نہیں کرونگا۔اور باقی الا عالی خود بجھا دیا۔اور میں بھتا ہوں۔سہ ہے زیادہ فائدہ مجھے اسی نصیحت نے دیا ہے کہ للہ تعالی خود با دیگا یہ ایک بھی نہ ختم ہونے والا خاندانی میرے ہاتھ آگیا ہے۔اوراللہ تعالٰی نے ایسا سمجھایا ہے کہ میں غرور تو نہیں کرتا مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ حالت ہوں۔کہ میں کوئی کتاب یاکوئی تفسیر پڑھ کر مرعوب نہیں ہوتا۔کیونکہ میں سمجھتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو کچھ مجھے دارے