تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 620 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 620

۵۹۵ از آئی ہے۔ہماری کامیابی اور فتح یہی ہے کہ ہم دین کو اسی طرح دوبارہ قائم کر دیں جس طرح رسول کریم صلی اله علیہ وسلم ایسے لائے تھے۔اور ایسے رنگ میں قائم کر دیں کہ شیطان اسپر محمد نہ کر سکے۔اور کوئی گکھڑ کی اور کوئی روشندان اور کوئی در اسکے لئے کھلا نہ رہنے دیں۔اور جب سے یہ تقریب منانے کی تحریک شروع ہوئی ہے۔میں یہی سوچتا رہا ہوں کہ ایسا کرتے ہوئے ہم کوئی ایسا روشندان تو نہیں کھول رہے کہ جس سے شیطان کو حملہ کا موقعہ مل سکے۔اور اس لحاظ سے مجھے شروع سے ہی ایک قسم کا انقباض سارہا ہے کہ میں نے اسکی اجازت کیوں دی۔اور اسکے متعلق سب سے پہلے انشرح صدر مجھے مولوی جلال الدین صاحبت شمس کا ایک مضمون الفضل میں میں پڑھ کر ہوا۔جس میں لکھا تھا کہ اس وقت گویا ایک اور تقریب بھی ہے اور وہ یہ کہ سلسلہ کی عمر پچاس سال پوری ہوتی ہے۔تب میں نے سمجھا کہ یہ تقریب کسی انسان کی بجائے سلسلہ سے منسوب ہو سکتی ہے۔اور اس وجہ سے مجھے خود بھی اس خوشی میں شریک ہونا چاہیے۔دوسرا انشراح مجھے اُس وقت پیدا ہوا۔جب در شمین سے وہ نظم پڑھی گئی جو کام دین کہلاتی ہے۔اسکو سنکر مجھے خیال آیا کہ به تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیش گوئی کو بھی پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔جو اس میں بیان کی گئی ہے۔اور اس کا منانا اس لحاظ سے نہیں کہ یہ میری ۲۵ سالہ خلافت کے شکریہ کا اظہار ہے۔بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی بات کے پورا ہونے کا ذریعہ ہے۔نامناسب نہیں۔اور اس خوشی میں میں بھی شریک ہو سکتا ہوں۔اور میں نے سمجھا کہ جو اپنی ذات کیلئے اسکے منائے جانے کے متعلق مجھے النشراح نہ تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشنگوئی کے پورا ہونے کے لحاظ سے انشراح ہوگیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک صحابی کے متعلق فرمایا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ اسکے ہاتھ میں کسری کے کڑے ہیں۔چنانچہ جب ایران فتح ہوا۔اور وہ کڑے جو کسر کی دربار کے موقعہ پر پہنا کرتا تھا۔عنیمت میں آئے۔تو حضرت عمر یہ نے اُس صحابی کو بلایا اور باوجودیکہ اسلام میں کردوں کیلئے سوٹ پہنتا ممنوع ہے۔آپنے اُسے فرمایا کہ یہ کڑے پہنو۔حالانکہ خلفاء کا کام قیام شریعت ہوتا ہے نہ کہ اُسے مٹانا۔مگر جب اس میں نبی نے یہ کہا کہ سونا پہنا کردوں کیلئے جائز نہیں۔تو آپنے فرمایا کہ یہ پہنو۔در فر میں کوڑے لگاؤں گا۔اس طرح میں نے یہ خیال کیا کہ گو یہ کڑے مجھے ہی پہنائے گئے ہیں۔گر چونکہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے۔اس لئے اسکے منانے میں کوئی حرج نہیں۔اور اس لئے میرے دل میں جو انقباض تھا۔وہ دُور ہوگیا۔اور میری نظریں اس مجلس سے اٹھ کر خدا تعالٰی