تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 619
۵۹۴ ا رہے تھے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالٰی نے لیانۃ القدر کے متعلق بتایا تھا کہ وہ کونسی رات ہے۔مگر ان کی لڑائی کو دیکھ کر مجھے بھول گئی۔اس طرح مجھ پر بھی وہ کیفیت طاری ہوئی تھی۔مگر اس کے بعد ایڈریس شروع ہوئے۔ان میں سے بعض ایسی زبانوں میں تھے کہ نہ میں کچھ مجھ سکا اور نہ آپ لوگ۔اور میں نے محسوس کیا کہ یہ بناوٹ ہے اور منتظمین دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم میں ایسی ایسی زبانیں جاننے والے لوگ موجود ہیں۔اور اس ظاہرداری کو دیکھ کر میری طبیعت پر ایسا برا اثر ہوا۔کہ وہ کیفیت جاتی رہی۔ہم لوگ تو اپنے جذبات کو دبانے کے عادی ہیں۔اور جن لوگوں نے بڑے کام کرنے ہوتے ہیں۔اُن کو یہ مشق کرنی پڑتی ہے۔عمر کاری افسروں کو دیکھ لو۔مثلاً تحصیل ہار اور تھانیدار وغیرہ ہیں۔سب قسم کے لوگ ان کے پاس آتے اور باتیں کرتے ہیں۔اور وہ سب کی باتیں سنتے جاتے ہیں لیکن اس مجلس میں ایسے لوگ بھی تھے۔جو جذبات کو دہانے کے عادی نہیں۔اس لئے ان میں ایک بے چینی ہی تھی۔اور وہ بھاگ رہے تھے۔اور یہ نظارہ میرے لئے تکلیف دہ تھا۔اور اس وجہ سے وہ کیفیت دور ہوگئی۔گو اب میں اگر اس مضمون کو بیان کرنا شروع۔دُجا کر دوں۔تو وہ مین پھر دب جائے گا۔مگر پہلے یہ کچھ میرے ذہن میں تھا۔وہ اب یاد نہیں آسکتا۔بہرحال مجھے کچھ کہنا چاہیے۔اور اس کاروائی کے متعلق جہاں تک دنیوی عقل کا تعلق ہے۔میں اب بھی بیان کر سکتا ہوں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ہر ایک نمائندہ نے وعدہ کیا تھا کہ تین منٹ کے اندراندر اپنا ایڈریس ختم کر دے گا لیکن سوائے اُس ایڈریس کے یہ مرشد کی جماعتوں کی طرف سے پیش کیا گیا۔اور کسی نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔پھر وہ جس طرح پیش کیا گیا ہے۔اس میں حقیقی اسلامی سادگی کا نمونہ نظر آتا ہے۔اور اس لئے ہیں انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔محض چھاپ لینے کو میں سادگی کے خلاف نہیں سمجھتا۔باقی ہجو ایڈریس پیش کئے گئے ہیں۔اُن میں سادگی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔حقیقی سادگی وہ ہوتی ہے جسے انسان ہر جگہ اور ہمیشہ نا سکے۔اور اس کی قدر دانی کے طور پر پئیں ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان کا سارا ایر لیں پڑھوں گا۔جب سے یہ خلافتہ جوئی کی تحریک شروع ہوئی ہے۔میر کی طبیعت میں ہمیشہ ایک پہلو سے انقباض سا رہتا آیا ہے اور میں سوچتا رہا ہوں کہ جبہم خود یہ تحریک منائیں تو پھر جولوگ برتھ ڈے یا ایسی ہی دیگر تقاریب مناتے ہیں۔انہیں کس طرح روک سکیں گے۔اب تک اسکے لئے کوئی دلیل میری سمجھ میں نہیں آسکی۔اور یکں ڈرتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں ایسی رسوم جماعت میں پیدا نہ ہو جائیں جن کو مٹانے کے لئے احمدیت ه رسید و خلافت جویلی" میں سرحد کی بجائے غلطی سے " ہندوستان" کا لفظ شائع ہو گیا تھا۔والفضلی، ربجنوری را ۱۹۳ در صفحه ۵ کالم ۳)