تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 40
۳۶ اس کے بعد دوسرے فتنوں کا سر کھلنے میں نمایاں حصہ لیا ہے۔بچنا نچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: امانت فنڈ کے ذریعہ احرار کو خطرناک شکست ہوئی ہے۔اتنی خطر ناک شکست کہ میں سمجھتا ہوں کہ اُن کی شکست میں ۲۵ فیصدی حصہ امانت فنڈ کا ہے۔لیکن باوجود اس قدر فائدہ حاصل ہونے کے دوستوں کا تمام روپیہ محفوظ ہے۔“ غرض یہ تحریک ایسی اہم ہے کہ میں تو جب بھی تحریک جدید کے مطالبات پر غور کرتا ہوں اُن میں سے امانت فنڈ کی تحریک پر میں خود حیران ہو جایا کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے کیو نکہ بغیر کسی بوجھ اور غیر معمولی چندہ کے اس فنڈ سے ایسے ایسے اہم کام ہوئے ہیں۔کہ جاننے والے جانتے ہیں وہ انسان کی عقل کو حیرت میں ڈال دینے والے ہیں " سے حق یہ ہے کہ مالی مطالبات پر جماعتی اخلاص کا یہ غیر معمولی نمونہ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کی دعائیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خاص دعاؤں کا نتیجہ تھا۔چنانچہ حضور شود بھی فرماتے ہیں :۔میں نے جب تحریک جدید بھاری کی تو میں نے جماعت کے دوستوں سے ۲۷ ہزار کا مطالبہ کیا تھا اور میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا نفس اس وقت مجھے یہ کہتا تھا کہ ۲۷ ہزار روپیہ بہت زیادہ ہے یہ جمع نہیں ہو گا مگر میرا دل کہتا تھا کہ اس قدر روپیہ کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔چنانچہ گو میں یہی سمجھتا تھا کہ اتنا روپیہ جمع نہیں ہو سکتا ، دینی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے میں نے تحریک کہ دی اور ساتھ ہی دعائیں شروع کر دیں کہ خدا یا ضرورت تو اتنی ہے مگر جن سے میں مانگ رہا ہوں ان کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے میں امید نہیں کرتا کہ وہ اس قدر روپیہ جمع کر سکیں تو خود ہی اپنے فضل سے ان کے دلوں میں تحریک پیدا کر کہ وہ تیرے دین کی اس ضرورت کو پورا کریں۔نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت نے بجائے ستائیس ہزارہ کے ایک لاکھ دس ہزار کے وعدے پیش کر دیئے۔پھر وصولی بھی ہو گئی " سے اور دعاؤں کی قبولیت کے اس نشان نے دشمنان احمدیت کو بھی ورطہ حیرت صدر مجلس احرار کا اقرار میں ڈال یا چنانچہ مولی حبیب ارمین صاحب لدھیانوی مد لب احرار " الفضل "مدار فروری ان صفحه و الفضل" بم دسمبر ۱۹۳۷ صفحه ۱۴+ نہ رپورٹ مجلس مشاورت " ۶۱۹۳۳ صفحه ۱۰۳ ۱ ۱۰۴ و اعر