تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 605 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 605

مشاعرہ کی ممانعت سب کمیٹی نظارت گلیاء نے خلافت جوبلی پر مشاعرہ کی سفارش کی تھی۔جس کی اجازت حضور نے نہیں دی۔چنانچہ فرمایا :- موجودہ حالات میں میری رائے یہی ہے کہ مشاعروں میں تکلف زیادہ پایا جاتا ہے اور اس لئے بھائے اس کے عام نفر یک کر دینی چاہئیے کہ دوست شعر کہیں، اور اسی رنگ میں اعلان کر دینا چاہیئے۔اور اس طرح جو نظمیں آئیں اُن کو تقریر وں کے دوران میں ہی پڑھنے کا موقعہ دے دیا جائے۔ان نظموں کو پہلے دیکھ بھی لینا چاہیئے کہ بلا وجہ میں نہ ہوں۔خلاف ادب مضامین اُن میں نہ ہوں۔خلاف علم نہ ہوں۔اور صرف دیہی نظمیں پڑھنے کی اجازت دی جائے جو دینی جوش کے ماتحت کہی گئی ہوں اے حضرت امیر المومنین نے خلافت جو بلی“ پر چراغاں کی اجازت رانا کی مشروط منظوری دیتے دیتے ہوئے فیصلہ صادر فرمایا :- "میری خلافت کی جو بلی جو منائی جا رہی ہے۔یہ کوئی انفرادی تقریب نہیں۔بلکہ اس لئے ہے۔کہ ئیں نظام سلسلہ کی ایک کڑی ہوں۔اور میرے خلیفہ ہونے کی وجہ سے ہے۔اور یہ مجلس بھی جماعت کی نمائند ہے۔اس لئے روپیہ ایسے طور پر خرچ کرنا چاہئے کہ ضائع نہ ہو۔اور اس بات کا خیال رکھا جائے۔کہ حیوانی جذبات پورے کرنے کا سامان نہ ہو۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے اندرکشش رکھتی ہیں۔اور چراغانی بھی ایسی ہی چیزوں میں سے ایک ہے۔شادی بیاہ کے مواقع پر لوگ چراغاں کرتے ہیں اور اس موقعہ پر اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔مہمان آئے ہوتے ہیں۔سامان بکھرا ہوا ہوتا ہے۔اس لئے اس موقعہ پر اس کا فائدہ بھی ہوسکتا مگر اس تقریب پر اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔اس لئے اس تحریک کو یوں بدل دیا جائے کہ منارہ پر روشنی کا انتظام کر دیا جائے۔منارہ پر جو بڑے لیمپ ہیں وہ روشن کر دیئے جائیں۔اور ان کے نیچے چھوٹے لیمپ لگا دیئے جائیں۔تا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نشان بھی پورا ہو۔اس طرح فضول خرچی بھی نہیں ہوگی ایک ایسی تقریب جو اپنی نوعیت کی پہلی تقریب ہے۔ہمیں ایسے رنگ میں منانی چاہئیے کہ آئیں کوئی بات فضول نہ ہو۔اگر چہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔بعض اوقات عبث کام بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شاہی جو بلیوں کے مواقع پر چراغاں کیا ہے۔کیونکہ سارے ملک میں یہ کیا گیا تھا۔اور اس وقت اگر آپ ایسا نہ کرتے۔تو سیاسی رنگ میں یہ قابل اعتراض بات ہوتی۔پس ضرورت کے موقعہ پر بے شک جائز ہے۔اُس وقت چونکہ ضرورت تھی۔آپ نے ایسا کر دیا۔اے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ ۶ صفحه ۶۷ ۶۸ * ہے۔