تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 559 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 559

۵۳۸ آبادی میں قطعا مفقود ہیں۔یہ کوئی معمولی اور نظر انداز کرنے کے قابل خصوصیت نہیں۔کیا یہ بات اس وسیع براعظم کے کسی اور مقدس شہر میںنظر آسکتی ہے ، یقینا نہیں۔میں بہت مقامات پر پھرا ہوں اور پورے زور کے ساتھ ہر جگہ یہ بات کہنے کو تیار ہوں کہ بجلی کے زبردست جینسر ٹیو کی طرح قادیان کا مقدس وجود اپنے پیچھے متبعین کے قلوب کو پاکیزہ علوم سے منور کرتا ہے اور قادیان میں احمدیوں کی قابل تقلید زندگی اور کامیابی کا راز یہی ہے۔حضرت مرزا صاحب ایسی روانی کے ساتھ پانچ سے نوگھنٹوں تک بولتے ہیں کہ ہند بستان یا اس سے باہر اس کی مثال نہیں مل سکتی۔دسمبر ہ میں میں نے مرزا صاحب کی تقریر سنی۔جو آپ نے کھڑے ہو کر گھنٹہ کی۔اور سامعین جن میں میں خود بھی شامل تھا بت بنے سنتے رہے اور نہایت غور کے ساتھ آپ کے مسکراتے ہوئے چہرہ مبارک کو دیکھتے رہے۔جلسہ کی تمام تقریریں مذہبی ہوتی ہیں جن کا استدلال قرآن مجید سے کیا جاتا ہے لیکن اُن میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جو بالواسطہ یا بلا واسطہ کسی دوسرے کے لئے ولآزار ہو۔اسلام کا بول بالا ہوتا ہے مگر دوسرے مذاہب کی تحقیر کرکے نہیں۔حضرت مرزا صاحب اور آپ کے خدام کی مہمان نوازی۔باقاعدگی اخلاص اور دوسری خوبیاں یقیناً بے نظیر ہیں۔جتنا عرصہ میں قادیان میں رہا۔میرے دل میں وہی جذبات پیدا ہوتے رہے جو ہمارے روحانی پیشوا نے ان الفاظ میں بیان فرمائے ہیں کہ ہی واحد لا شریک سب میں موجود ہے۔نانک اُسے دیکھتا اور خوش ہوتا ہے۔ملے فصل ششتم ۱۹۳ ء کے بعض متفرق گراہم واقعات مصر کے پہلے احمدی السید عبد الحمید خورشید ۱۳ جنوری دارد استید عبد الحمید خورشید قادیان میں کر تاریان در ایران تشریف رائے ہے اور قریب یہ مانگ مرکز احمدیت کی برکات سے مستفیار جو گیر ۱۳ فروری شر کو اپنے وطن روانہ ہو گئے ہیں ه و روزنامه الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۳ صفحریم روزنامه الفضیل ۱۵ار فروری ۱۹۳۸ در صفحه اکالم ۱ - و ڈیڑھ ن روزنامه افضل بر جنوری ۱۹۳۰ اور صفحه کانما