تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 556 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 556

۵۳۵ خان سیکرٹری تعلیم و تبری شمله یه خانصاحب فقیر محمد صاحب ایگی ن چار ساده به خان بهادر محمد علی ها احمدنگر ضلع کوہاٹ اور ڈاکٹر غلام علی صاحب سان جور ضلع لائل پور نے بھی اسی سال وفات پائی۔حضرت امیر المومنین کی طرف سے اس عجیب بات ہے کہ اس سال مئی میں یکے بعد دیگرے کئی اصحاب یہ انتقال کر گئے خیموں کے اس اجتماع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بعض وفات یافتگان کا ذکر خیر ایک مضمون تحریر فرمایا میں میں کھا _: یوں تو مئی کا مہینہ ہمارے لئے ہمیشہ ہی ایک بڑے رنج و غم کی یاد کو تازہ کر دیتا ہے لیکن اس سال کی مٹی میں یہ خصوصیت ہے کہ اس میں غم پشتل تازہ واقعات کا بھی اجتماع ہو گیا ہے۔۔۔۔۔جن مرحومین کا میں نے ذکر کیا ہے اُن میں سے ہر ایک خاص رنگ رکھتا تھا۔چیری عبد القادر حساب مرحوم۔۔۔۔۔چوہدری عبد القادر صاحب لیڈر ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کے بڑے افراد سلسلہ کے سخت مخالف تھے اور میں نو جوانی میں احمدی ہوئے اور سب مخالفتوں کا خاموش مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پختہ ایمان کا ثبوت دیا۔باوجود ایک مکروہ چشمہ سے تعلق رکھنے کے ایک نیک اور سعید نوجوان تھے۔اللہ تعالے اُن کی روح کو بخشش سے ڈھانپ ہے۔خان فقیر محمد خان صاحب مرحوم ا۔۔۔خان صاحب فقیر محمد خان صاحب مرحوم رہی ہیں جنونی آنچ し اتصال پہلے سے ہی میں کہا تھا کہ ہماری دو والدہ تھیں اور ہر ایک سے دو دو بیٹے ہیں ہم نے انصاب ے کام کیا ہے اور ہر ایک والدہ کا ایک ایک بیٹیا احمدیوں کو دے دیا ہے اور ایک ایک بٹیا سنیوں کو۔گویا رو پے میں سے آٹھ آٹھ آنے ہم نے دونوںمیں تقسیم کر دیتے ہیں۔اور میں نے اس پر انہیں جواب دیا تھا کہ خلائی سلسلے ہیں تقسیم پر خوش نہیں ہوتے بلکہ وہ تو درا ہی لیا کرتے ہیں۔وہ اس وقت اپنے اہل وعیال سمیت ولایت جاہے تھے ان کو خدا نے انگلستان میں ہی ہدایت دی اور وہیں سے صحیت کا خط لکھ دیا اور کھا۔آپ کی بات کس قدر جلد پوری ہوگئی میں تیسری چونی آپ کے پاس بیعت کے لئے آتا ہوں۔دعا کریں چوتھی ہوتی یعنی بقیہ بھائی بھی احمدی مه وفات په راپریل ۹ ای ای زندگی کیلئے ملاحظہ ہو افضل ۲۶ اپریل و مت کے وفات مرئی اور افضل رہی مٹی کو ہاٹ کے ایک میں افغان خاندان بنگشن سےتعلق رکھتے تھے۔محمد یں اکٹر انسٹنٹ کٹر کے عہد پر فائزہ ہے۔بہت سمنکسرالمزاج تھے اورمعمولی سے معمولی احمدی کو دیکھکر ان کا دل باغ باغ ہو جاتا تھا آپ کی خاص یاد گار مسجد احمدیہ کوہاٹ ہے جس کیلئے اپنی زمین ہیں اور ایک متونی مٹی کے زیور فروخت کرکے پر یہ مہیا کیا اور ایک کی قسم تقدیمی اس مضمون میں جو حضور ہے مقتل غیر په حافظ بشیر احمد صاحب جالند سری کا ذکر فرمایا تھا۔اس مین میں حضور نے جو کلمات تحریر فرمائے وہ کھلیں خدام الاحمدیہ کے حالات میں درج کئے۔