تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 552
۵۳۱ سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے سیر روحانی “ کی علمی تقریروں میں ایسے ایسے قرآنی حقائق و معارف کے دریا بہا دیئے اتنے بے شمار نکات معرفت بیان فرمائے کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے اور دل اس یقین سے لبریز ہو جاتا ہے کہ بندا نے علوم ظاہری و باطنی کے پر کئے جانے کی جو پیشگوئی اپنے مقدس مسیح موعود کو عطا فرمائی تھی، وہ پوری شان و شوکت سے پوری ہوئی۔سیر روحانی کے بیشمار کمالات میں سے یہ تھا کہ سلطان البیان حضرت خلیفتہ السیح الثانی نے جہاں خدا کی دی ہوئی توفیق سے تفسیر قرآن اور تاریخ اسلام کے امتزاج سے اسلامی حقائق بالکل نئے اور اچھوتے رنگ میں پیش فرمائے وہاں اپنی شان خطابت سے اُن حقائق کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے سامنے ایک بلند نصب العین رکھا اور اُن میں روحانی زندگی کی ایک نئی روح پھونک دی۔اس حقیقت کے ثبوت میں " سیر روحانی" کا صرف ایک اقتباس درج کرنا کافی ہو گا۔حضور نے ۲۰ دسمبر ۹ہ کو عالم روحانی کے نوبت خانہ کا بالتفصیل تذکرہ کرنے کے بعد پر جلال لب و لہجہ میں ارشاد فرمایا :- " اس نوبت خانہ سے جو یہ نوبت بھی ، یہ کیا شاندار نوبت ہے۔پھر کیسی معقول نوبت ہے وہاں ایک طرف بینڈ بج رہے ہیں۔ٹوں ، ٹوٹی ، ٹوں ٹیں ٹیں ہیں۔اور یہ کہتا ہے۔اللهُ أَكْبَرْ - اَللهُ أَكْبَرُ : أَشْهَدُ أن لا إلَهَ إِلَّا اللَّهُ : اشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کیا معقول باتیں ہیں۔کیسی سمجھ دار آدمیوں کی باتیں ہیں۔بچہ بھی سنے تو وعد کرنے لگ جائے اور اُن کے متعلق کوئی بڑا آدمی سوچے تو شرمانے لگ جائے۔بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ ٹوں ، ٹوں ، ٹوں۔ٹیں ٹیں ہیں۔مگر افسوس ! کہ اس نوبت خانہ کو آخر مسلمانوں نے خاموش کر دیا۔یہ نوبت خانہ حکومت کی آواز کی جگہ چند مرثیہ خوانوں کی آواز بن کر رہ گیا۔اور اس نوبت کے بجنے پر جو سپاہی جمع ہوا کرتے تھے وہ کروڑوں سے دسیوں پر آگئے اور اُن میں سے بھی ننانوے فیصدی صرف رسما اُٹھک بیٹھک کر کے چلے جاتے ہیں۔تب اس نوبت خانہ کی آواز کا رعب جاتا رہا۔اسلام کا سایہ کھیچنے لگ گیا۔خدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئی۔اور دنیا پھر شیطان کے قبضہ میں آگئی۔