تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 511
بم و لے گئے۔صاحبزادگان والانتبار نے اقامت مصر کے دوران جماعت احمدیہ کی تربیت اور زیر تبلیغ دوستوں تک پیغام حق پہنچانے کے علاوہ مشہور مصری زعماء سے بھی ملاقاتیں کیں۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے شیخ الازهر مصطفے امراضی سے ملاقات کی اور ان کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا ذکر کر کے ایمان لانے کی ترغیب دی اور حضور کے صدق پر قرآن مجید سے واضح دلائل و براہین دیئے لیکن افسوس شیخ صاحب نے بجائے علمی رنگ میں جواب دینے کے یہ کہ کر پیچھا چھڑایا کہ آپ مجھی ہیں اور ہم " صَوَاحِبُ لُغَةِ القُدان" ہیں۔قرآن ہماری زبان میں اُترا ہے۔اس لئے ہم اس کے معنے بہتر سمجھتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی ملاقات میں جماعت احمدیہ کی عالمگیر تبلیغی مساعی اور اُن کے شاندار نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ " آج اسلام اگر ترقی کر سکتا ہے تو اس کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچایا جائے اور ہر مسلمان والہانہ طور پر سر غیر مسلم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کی کوشش کرے، اس کے بعد اُن سے پوچھا کہ آپ نے غیر مسلموں میں تبلیغ کا کیا پروگرام بنایا ہے وہ جوابا کہنے لگے کہ سید جمال الدین افغانی مریم مصر کے ایک مشہور عالم) سے کسی نے سوال کیا کہ تم چین و جاپا کے لوگوں کو جن کی تعداد دنیا کے اکثر حصوں سے زیادہ ہے، کیوں جاکر تبلیغ نہیں کرتے اور کیوں انہیں مسلمان نہیں بنا لیتے تو سید جمال الدین صاحب نے جواب دیا کہ میں ان میں جا کر انہیں کیا کہوں کیس چیز کی طمع دلاؤں جو ان کے پاس نہیں ہے اور اسلام قبول کرنے سے انہیں کیا مل بھائے گا۔اگر انہیں یہ کہوں کہ اسلام قبول کرو تم تعداد میں ترقی کرو گے ، مال میں ترقی کرو گے یا سیاست میں ترقی کرو گے یا تم ایک آزاد مستقل امت ہونے کا انعام پاؤ گے یا تمہارا علم زیادہ ہوگا اور عقل تیز ہوگی تو چونکہ یہ سب چیزیں اُن کو اب بھی حاصل ہیں۔اس لئے وہ مجھے جواب دے سکتے ہیں کہ جن چیزوں کی خاطر تم ہمیں اسلام کی دعوت دیتے ہو وہ ہمارے پاس پہلے سے ہی موجود ہیں۔ہمیں ان کی ضرورت نہیں۔لہذا اگر میں بنا پان چین میں جا کر تبلیغ کروں تو کوئی نتیجہ نہیں کیا بلکہ وہ بالکس کہہ سکتے ہیں۔اگر اسلام امتوں کو آزاد کراتا ہے اور ترقی و علم و برتری عطا کرتا ہے تو کیوں تم مسلمان اس طرح ذلیل حالت میں ہوتے۔اس کے بعد کہنے لگے یہی جواب ہمارا آج ہے۔اگر ہم یورپ میں جا کر تبلیغ کریں تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ عبد اللہ بغیر اسلام حاصل ہے ہمیں اسلام کی ضرورت نہیں ہے؟