تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 505 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 505

YAN اس سے تھوڑا رکھ کر قناعت سے گزارہ کر رہے ہیں اور اس پر شکر کرے تو خدا تعالیٰ نے اُسے دیا ہے اور اس کی خواہش نہ کرے جو اُسے نہیں ملا۔اس کے شکر کرنے سے اس کا مال ضائع تو نہیں ہوتا۔ہاں اُسے دل کا سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔اور طمع کرنے سے دوسرے کا مال اُسے نہیں مل جاتا صرف اس کا دل جلتا اور عذاب پاتا ہے جس طرح بچہ بڑوں کی طرح چلے تو گرتا اور زخمی ہوتا ہے اسی طرح جو شخص اپنے سے زیادہ سامان رکھنے والوں کی نقل کرتا اور گرتا اور زخمی ہوتا ہے اور چندوں کی جھوٹے دوستوں کی واہ واہ کے بعد ساری عمر کی طاقت اس کے حصہ میں آتی ہے۔اور انسان کو ہمیشہ اپنے ذرائع سے کم خرچ کرنے کی عادت ڈالنی چاہیئے کیونکہ اس کے ذمہ دوسرے بنی نوع انسان کی ہمدردی اور امداد بھی ہے۔ان کا حصہ خرچ کرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں اور پھر کون کہہ سکتا ہے کہ کل کو اس کا حال کیا ہوگا ؟ اور جفا کشی اور محنت ایسے جو ہر ہیں کہ اُن کے بغیر انسان کی اندرونی خوبیاں ظاہر نہیں ہوتیں۔1 جو شخص اس دنیا میں آئے اور اپنا خزانہ مدفون کا مدفون چھوڑ کر چلا جائے اس سے زیادہ بد قسمت کون ہو گا ؟ - شخص جو باہر جاتا ہے اس کے ملک اور اس کے مذہب کی عزت اس کے پاس امانت ہوتی ہے۔اگر وہ اچھی طرح معاملہ نہ کرے تو اس کی عزت نہیں بلکہ اس کے ملک اور مذہب کی عزت پر جاد ہوتی ہے۔لوگ اُسے بھول جاتے ہیں لیکن عرصہ دراز تک وہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ ہم نے ہندوستانی دیکھے ہوئے ہیں۔وہ ایسے خراب ہوتے ہیں ہم نے احمدی دیکھے ہوئے ہیں وہ ایسے خراب ہوتے ہیں۔مسافر کو جھگڑے سے بہت بچنا چاہیئے۔اس سے زیادہ حماقت کیا ہوگی کہ دوسرا شخص تو جھگڑا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہے اور یہ ہوٹلوں میں جھگڑے کے تصفیہ کا انتظار کرتا ہے۔مسافر تو اگر جنتیا تب بھی ہارا۔اور اگر ہارا تب بھی ہا ہا۔جا۔غیر ملکوں کے احمدی ہزاروں بار دل میں خواہش کرتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی قادیان جانے کی توفیق ملے کہ وہاں کے بزرگوں کے تقویٰ اور اچھے نمونہ سے فائدہ اُٹھائیں اور خصوصاً اہلبیت کے ساتھ ان کی بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔وہ اپنے گھروں کو ایمان کے حصول کے لئے چھوڑنا چاہتے ہیں اور ہمارے پاس آنا چاہتے ہیں سخت ظلم ہوگا اگر ہم ان کے پاس جا کر اُن کے ایمانوں کو ضائع کریں۔i