تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 492
۴۷۵ طلبا و ظہر سے عصر تک کا وقت مسجد مبارک میں گزارتے اور مرکزی لائبریری سے کتابیں لے کر پڑھتے۔شریک کلاس ہونے والے طلباء کی تعداد پچیں تھی اور ان کی رہائش کا انتظام مہمان خانہ میں کیا گیا تھا۔آخری روز استی حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی نے طلباء کو بعد نماز عصر مسجد مبارک میں شرف ملاقات بخشا اور قیمتی نصائح کیں۔اور ارشاد فرمایا کہ ان طلبا کے لئے ۲۴ گھنٹوں کا پروگرام ہونا چاہیے تھا جس میں ہر کا م اوقات مقرر ہوتے۔ان ایام میں ان طلباء کو سخت اور سلسل محنت کرنے کی مشق کرائی جانی چاہیے تھی۔اس سلسلہ میں حضور نے تفصیلی ہدایات دیں۔اسی طرح فرمایا کہ باہر سے آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔کم از کم مو طالب علم باہر سے آنا چاہیئے تھا۔آئندہ سال بہت پہلے تحریک شروع ہونی چاہیئے یہ سب طلبہار ایک جگہ ہیں۔تین چار نگران پردخت کس کیساتھ ہمیںاور اپنے عمل سے ان پر نیک اثر ڈالیں لیے این پہلی کلاس کے بعد خدام الاحمدیہ مرکزی مستقل طور پر تعلیم و تربیت کا یہ اہم طریق رائج کر دیا جواب تک بدستور جاری ہے۔ہی تعلیم القرآن کلاس صورت خیر بنته لمسیح الثانی کے ارشاد پر دینیات کلاس کے بعد مجیک خدام الاحمدیه مرکز ید اور نظارت تعلیم و تربیت کے اشتراک سے ۹۴۵ ار میں پہلی تعلیم القرآن کلاس بھی شروع کی گئی جو ہ ۲ راگست سے ۲۵ ستمبر تک جاری رہی۔نمائندگان کی تعداد ۷۳ تھی جو حسب استعداد دو جماعتوں میں تقسیم کر دیئے گئے۔ہر ایک جماعت تعداد کے لحاظ سے دون فریقوں میں منقسم تھی اور قرار پایا کہ جماعت اول کو پانچ سپارے تک ترجمہ پڑھایا جائے اور جماعت دوم کو دس پارے تک۔کلاس کے طلباء کو مولوی تاج الدین صاحب فاضل لائلپوری مولوی محمد ابراهیم هنا بقا پوری قاضی محمد نذیر صاحب فاضل و کیلوری اور قریشی محمد نذیر صاحب ملتانی نے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا یا اور کرفت دو کی تعلیم مولوی خل ارحمان صاحب بنگالی، مولوی محمد ابراہیم صاحب قادیانی در ورودی شرعی احمد صاحب امینی نے دی۔اور طبی خدمات کے لئے خانصاحب ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب میڈیکل انچارج تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی خدمات حاصل کی گئیں۔تعلیم القرآن کیٹی کے سیکرٹری چوہدری عبد السلام صاحب اختر تھے۔اور نمائندگان کی رہائش اور دیگر متعلقہ امور کی نگرانی کے فرائض مولوی شریف احمد صاحب معینی نے انجام دیئے۔الفضل ۲۶ مئی ۱۹۳۵ ۶ صفحه ۵