تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 478
جمشید پور - عارف والا۔ملتان کرام اور جیل میں بھی تعلیم ناخواندگان کا سلسلہ جاری کیا گیا جو دوسری جاس تک آہستہ آہستہ مند ہوتا چلا گیا مجلس خدام الاحمدیہ کا نظام چونکہ روز بروز دست پکڑتا جا رہا حضر صد میں کے بیرونی دورے امان تھا اس لئے ملک بھر کی مجالس کو منظم اور انکی نگرانی کرنے کے لئے ضرورت تھی کہ صدر محترم بیرونی مقامات پر تشریف نے جائیں۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اکتوبر تار کو بہ نفس نفیس کا ٹھ گرام تشریف لے گئے۔پھر ا ء میں بعض مجانس کا دورہ فرمایا جس سے این مجالس میں خاطر خواہ بیداری پیدا ہوگئی ہے دوسرا سالانہ اجتماع لجس کا دوسرا سالانہ اجتماع بھی ۲۵ دسمبر ۱۹۳۹ ء کو سمجد نور سے متصل میاران میں منعقد ہوا جس کے پہلے اجلاس میں چوہدری حاجی احمد خان کتاب ایاز چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔اے ایل ایل بی۔پیر صلاح الدین صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی۔اور مولوی قمر الدین صاحب نے تقاریر کیں اور حضرت صدر محترم نے بھی تقریریں فرمائیں۔دوسرے اجلاس میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا جس کا ملخص یہ تھا کہ گر کوئی کام کرنا چاہتے ہو تو واقعات کی دنیا میں قیاسات سے کام لینا چھوڑ دو۔جیسے کوئی کام سپرد کیا جائے وہ جب تک خود نہ دیکھ لے کہ ہو گیا ہے۔یا جس نے خود کیا ہے دہ نہ بتا دے کہ وہ خود کر آیا ہے تسلی پالینا اول درجہ کی نالائنتی اور حماقت ہے۔کام کی نگرانی ایسے رنگ میں کرنی چاہیئے کہ اس کے ساتھ دلی تعلق اور محبت ظاہر ہو۔دیکھو بچہ جب ماں کی آنکھوں سے اوجھل ہو تو اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اور یہ اس کی انتہائی محبت کا تقاضا ہوتا ہے۔اسی طرح تمہارے وقہ نے مطبوعہ رپورٹ فرام احمدیه سال تول در صفحه ۱- ۱۲- شا کرده ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا د درد را در این ناخوانده ای سے متعلق کے ریکارڈ کا ایک حصہ دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزی ربوہ میں محفوظ ہے۔الفضل در اکتوبر ۱۹۳۵ صفحه ۹ الفضل وارد سمبر ۹۳ صفحه ۲ - سے رپورٹ خدام الاحمدیه سال چهارم صفحه ۴۴- ۴۵ 00 مطبوعہ رپورٹ سال اول و دوم صفحه ۲۸ ۲۹۰