تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 472
۴۵۵ آرہی تھی مگر اللہ تعالی کی مشیت کچھ اور تھی۔اُس نے انہیں خدام الاحمدیہ کے لئے ایک مثال اور نمونہ بنانا تھا۔جس جماعت کے بنتے ہی اس کے کارکنوں کو شہادت کا موقعہ مل جائے۔اُس کے مستقبل کے شاندار ہونے میں کوئی شک نہیں رہنا اور اس کے عزت مند افراد اپنی روایات قائم رکھنے کے نے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔پس یہ موت تکلیف دہ تو ہے لیکن اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک حکمت کام کرتی نظر آ رہی ہے ہے۔خدام الاحمدیہ کا عہد نامہ اس کے ابتدائی دور میں حضرت خیر ایسی انانی نے حامی نوجوانوں کے لئے ایک عہد تجویز فرما دیا تھا جس کے الفاظ یہ تھے :- شْهَدَاتِ وَإِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ (ایک مرتبہ) میں اقرار کرتا ہوں کہ قومی اور علمی مفاد کی خاطر اپنی جان مال اور عزت کی قربانی کی پروا نہیں کروں گا۔دتین بار " جون ۱۹ ء میں حضور نے عہد نامہ کے اردو الفاظ میں حسب ذیل ترمیم فرمائی : - میں اقرار کرتا ہوں کہ قومی اور یکی مفاد کی خاطر میں اپنی جان مال اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہوں گا ہے " اس کے بعد حضور نے اور اکتوبر ۱۹۵۷ کوعہد نامہ میں کچھ ترمیم کی اور اس کی آخری صورت یہ تھی - اشهد ان لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ } واشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ: مین اقرار کرتا ہوں کہ دینی ، قومی اور تلی مفاد کی خاطر میں اپنی جان ، مال ، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہوں گا۔راسی طرح خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہونگا۔از خلیفه وقت جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھوں گا مینے ، رپورٹ خدام الاحمدیه سال اول صفر ۳۸ الفضل ا د ر اکتوبر ۱۹۵۶ در صفحه کالم ۳ در الفضل ، رجون ۱۹۴۲ صفحہ ۲ کالم ۲ آن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ۲ ارجون ائر کا منظور شده دستور اساسی مجلس خدام الاحمدید