تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 471
۴۵۴ زمین سیاہ تھی اور اس کے نقوش میں سارہ المسیح تھا۔جس کے اوپر ایک جھنڈا لہرا رہا تھا جس پر کمر طلبہ مندرج تھا۔ساتھ ہیں ہلال کے ستارے کے نشان ثبت تھے۔ہلال کے ساتھ واستبقوا الخيرات کے الفاظ نقش تھے بینچ پر رکن مجلس خدام الاحمدیہ بھی لکھا ہوا تھا۔مجلس کا پہلا شہید | حافظ بشیر احمد صاحب جالن ہری مجلس خدام الاحمدیہ کے بالکل ابتدائی ارکان میں سے تھے اور نہایت جوش اور اخلاص کے ساتھ مجلس کے پروگرام حافظ بشیر احمد صاب جالندهری کے لئے کوشاں رہتے تھے۔حلقہ وار مجالس کے قیام کے بعد آپ مجلس خدام الاحمدیہ دارالرحمت کے زعیم مقرر ہوئے۔آپ نے نہایت ہی جوش اور اخلاص کے ساتھ مکس کے لئے انتھک محنت کی اور اس سرگرمی کے دوران ۲ مئی ۱۹۳۸ء کو خدام الاحمدیہ کا اجتماعی کام کرتے ہوئے دماغ کی رگ پھٹ جانے سے وفات پاگئے۔انا للہ وانا اليه راجعون حافظ صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کے پہلے شہید تھے جنہوں نے اپنے خون سے نوجوانان احمدیت کی اس تنظیم کی آبیاری کی۔چنانچہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نے اس سانحہ کا مندرجہ ذیل الفاظ میں تذکرہ فرمایا حافظ بشیر احمد حافظ قرآن ، جامعہ کے تاریخ انتصیل، وقف کننده ، مقدام الاحمدیہ کے مخلص کارکن اور اُن نوجوانوں میں سے تھے جن کے مستقبل کی طرف سے نہایت اچھی خوشبو ه حافظ صاحب مرحوم مه را پریل کو صوفی علیمحمد صاحب پریزیڈنٹ انجن احمدیہ لاہور چھاونی کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرت خان صاحب موادی فرزند علی صاحب ناظر بہت انسان کی چھوٹی ہمشیرہ تھیں۔آپنے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کیا۔۱۹ میں مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا اور ۱۹۳۳ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کر کے مبلغین کلاس میں ۱۹۲۳ 1914 شامل ہوگئے اور یکم اگست کو مبلغ کے فرائض سرانجام دینے لگے۔ونا سے صرف دو روز قبل آپ ایک تبلیغی دورے سے واپس آئے۔ہوائی شر کی صبح کو قریباً چار بجے بیدار ہوئے۔نماز فجر ادا کی۔بعد ازاں خدام الاحمدیہ کے دیگر مہروں کے ساتھ نائیوں کی درستی کا کام شروع کر دیا۔اسی اثناء میں درد سر کی شکایت ہوئی جو لحظہ لحظہ شدت اختیار کرتی گئی حتی کہ بیہوشی طاری ہو گئی۔امپر آپ کو فورا ہسپتال سے جایا گیا۔یہاں ہرممکن تدابیر کے باوجود ہونے او کے آپ کی روح