تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 461 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 461

ایسے مخلص اور ایثار پیشیر اور درد مند دل رکھنے والے اور انتظامی قالینیں اور صلاحتیں رکھنے والے مدبر دماغ اور والےاور میسر آگئے جنہو نے آگے چل کر سلسلہ احمدیہ کی عظیم ذمہ داریوں کا بوجھ نہایت خوش اسلونی اور کامیابی سے اپنے کانوں پر اٹھایا اور امداد بھی هم خدا تعالٰی سے یہی امید رکھتے ہیں کہ اللہ تھانے پر نسل میں ایسے لوگ پیدا کرتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ العزیز حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس مجلس کی بنیاد رکھتے ہوئے پیشنگوئی فرمائی تھی کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے روشمن کے ان حملوں کا کیا جواب دیا جائیگا۔ایک ایک چیز کا اجمالی علم میرے ذہن میں موجود ہے اور اسی کا ایک حصہ خدام الاحمدیہ ہیں اور در حقیق یه روحانی ٹرینینگ اور روحانی تعلیم و تربیت ہے۔بے شک وہ لوگ جو ان باتوں سے واقف نہیں وہ میری ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ہر شخص قبل از وقت ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔یہ اللہ تعلی کی دین ہے جو وہ اپنے کسی بندے (کو) دیتا ہے۔۔۔۔۔۔آج نوجوانوں کی ٹرینینگ کا زمانہ ہے اور ان کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹرینینگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو رہا۔مگر جب قوم تربیت پاکر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔درحقیقت ایک نہیں زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اُٹھنے پر اٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جائے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مجلس خدام الاحمدیہ کی تاسیس کے زمانہ میں واضح لفظوں خدام الاحمدیہ کے قیام میں اس کی غرض و غایت یہ بیان فرما دی تھی۔کی بنیادی تعرض میری غرض اس مجلس کے قیام سے یہ ہے کہ جو تعلیم ہمارے دلوں میں دفن ہے اُسے ہوا نہ لگ جائے بلکہ وہ اسی طرح نسلاً بعد نسل دنوں میں دفن ہوتی چلی جائے آج وہ ہمارے دلوں میں دفن ہے تو کل وہ ہماری اولادوں کے دلوں میں رشن ہو اور پرسوں اُن کی اولادوں کے دلوں میں۔یہاں تک کہ یہ تعلیم ہم سے وابستہ ہو جائے۔ہمارے دلوں کے ساتھ چھوٹ جائے اور ایسی صورت اختیار کرے جو دنیا کے لئے مفید اور بابرکت ہو۔اگر ایک یا دو نسلوں تک اه ناقل ه الفضل ، را پریل ۱۹۳۵ ، صفحہ ، کالم ۳