تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 458 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 458

شنوائی نہ ہوئی۔آخر بعض پولیس افسروں کے کہنے پر اجر کی اصحاب جلسہ گاہ سے باہر آ گئے۔اس مناظرہ میں حاضرین کی تعداد قریباً دو تین ہزار ہوگی۔لے 4 - مباحثہ لائل پور۔قاضی محمد نذیر صاحب فاضل نے لائل پورمیں ۱۱ ۱۲ اپریل ء کو پادری میلارام صاحب سے صداقت مسیح موعود اور الوہیت سیم ناصری پر مناظرے کئے۔غیر احمدی اصحاب نے احمدی مناظر کو مبارک باد پیش کی اور اُن کے گلے میں ہار ڈالے۔۷۲ مباحثہ جھنگ مگھیانہ - بیا را پریل ۱۹۳۶ء کی درمیانی شب کو آریہ سماج لنگھیانہ کے چیلنج پر میونسپل کمیٹی جھنگ مگھیانہ کے باغ میں آریہ سماج اور جماعت احمدیہ کے درمیان ایک معرکۃ الآراء مناظرہ ہوا۔زیر کاشت موضوع مسئلہ تناسخ تھا۔احمدیوں کی طرف سے قاضی محمد نذیر صاحب فاضل مناظر تھے اور آریہ سماج کیطرف پنڈت پر بھی لال صاحب پر یکم۔مناظرہ سوا نو بجے شر سے سوا بارہ بجے شریک نہایت پرسکون ماحول میں جاری رہا۔مناظرہ کے خاتمہ پر مسلمانوں نے احمدی مناظر کو مبارک باد دی۔سے ہ مباحثہ جہلم - جہلم میں جماعت احمدیہ اور آریہ سماج کے درمیان را پریل مسئلہ کو تین مناظر سے ہوئے۔پہلے مناظرہ میں جماعت احمدیہ کی نمائندگی مہاتہ محمد عمر صاحب فاضل نے اور آریوں کی نمائندگی پنڈت ست دیو صاحب بنے کی۔موضوع یہ تھا کہ کیا و ید الہامی کتا ہے۔جہا شد صاحب کی طرفہ گفتگو اور سنسکرت کی علمی قابلیت نے سامعین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔دوسرا مناظرہ کیا قرآن مجید کامل الہامی کتاب ہے" کے مضمون پر تھا۔ہو مولوی ابو العطاء صاحب نے کیا۔آپنے اپنے دعوئی کے ثبوت میں یہ لامل قرآن مجید سے پیش کئے۔آریہ مناظر صاحب کو ان میں سے ایک دلیل بھی توڑنے کی جرأت نہ ہوسکی مناظروں کے اختتام پر مسلمان، ہندو، اور سکھ سب کی زبان پر احمدی مناظر کی کامیابی اور آریہ مناظر کی کھلی شکست کے پر چھے تھے یعنی کہ خود آریہ صاحبان نے اپنے مناظر کی کمزوری اور احمدی مناظر کی کامیابی کا اقرار کیا۔پنڈت است دیو صاحب آریہ مناظر چونکہ دونوں مناظروں میں نہک اُٹھا چکے تھے اسلئے آرکیوں نے اپنا خاص قاصد لاہور بھیجا جو پنڈت پر کبھی لال صاحب کو بلا لائے جنہوں نے "مسئلہ تناسخ پر مناظرہ کیا۔جماعت احمدیہ کی رو سے مولوی ابو العطاء صاحب نے نظریہ تناسخ کے رد میں قریباً چالیس عقلی اور علمی دلائل پیش کئے۔ان مناظر وی میں سامعین ی تعداد قریب ہو ہزار تک رہی۔مناظروںکے خاتمہ پر اسلام کی تا اور راوی کی شکست پر سلمانوں کی رو سے بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کیا گیا۔بعض مسلمان معززین نے یہانتک اقرار کیا کہ ان کے دل میں حضرت مرزا صاحب کی عریت گھر گئی ہے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ انکار پر اس مجرہ ملکہ انکے پیرو مخالفین اسلام کی کھلیاں ھونے میں مصروف ہیں اور له الفضل و راپریل سال در صفحه ۱۲ : له الفضل ۳ در اپریل ۱۹۱۳ ء صفحه با کالم : سل الفضل ۲۷ اپریل ۶۱۹۳۶ صفحه به 6