تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 442
۴۳۷ ہے۔کی صحیح تصویر پیش کرتا ہے۔اور ایک معمولی لکھا پڑا آدمی اسی بہت فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔اس ملک میں اسلام صدیوں سے ہے۔مگر اسلام کو ایسی شکل میں پیش کیا گیا جو نا قابل مل نہیں تو کم از کم مشکل ضرور نظر آتا ہے۔مگر جماعت احمدیہ نے اسلام کی صحیح تصویر پیش کر کے ملک وملت کی بہت خدمت کی مجھے یاد ہے جب میں فری ٹاؤن کے ایک سکول میں طالب علم تھا۔تو یاعت احمدیہ کا مبلغ فری ٹاؤن میں آیا۔لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔مگر اس کے علم وفضل کی اس قدر دھاک بیٹھ گئی کہ لوگ اس کے علم وفضل کا اقرارہ بر طا کرنے لگے۔اسکی ایک ہا تھ میں قرآن تھا تو دوسرے میں بائیں۔ادیر وہ دونوں کا مقابلہ کر کے قرآن کی فضیلت اس طرح ثابت کرتا تھا کہ کوئی عیسائی پادری اسکا جو انت دے سکتا تھا۔احمدیہ میشن نے اسلام پر نیا لٹریچر پیدا کرنے کے علاوہ قرآن کریم کے تراجم کر کے دنیا پر خصوصا مسلمانوں پر احسان عظیم کیا ہے۔ہم نوجوان جنہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کی ہے۔اور وہ بھی عیسائی سلوگوں میں۔ہمارے لئے اسلام کا سمجھنا بہت ہی مشکل تھا۔اگر ہمیں اسلام کے بارے میں واقفیت حاصل ہوئی ہے تو وہ صرف جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے ہوئی ہے۔اور آج ہم بڑے سے بڑے اسلام دشمن کو اسلام کی صداقت کے بارہ میں چیلنج کر سکتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ جب میں طالب علم تھا ایک عیسائی نے اختبارہ میں ایک مضمون لکھا جس میں اسلام پر ناروا حملے کئے گئے تھے۔نہیں نے چیلنج کو قبول کیا۔اور بھجواب دینے کی تیاری میں مشغول ہوا۔کا مکمل جواب حمدیہ موجود تھا میں نے مشن کی کا ال دل کا منہ توڑ جواب دیا اس کو مشن کی اسلامی خدمات کول و جان سے ہوئی اور یہاں بھی مجھے بجانے کا اتفاق ہوا۔میں نے اس کا اعتراف کیا ہے اور جہاں بھی گیا ہوئی احمد یہ مشن کو خدمت دین کرتے ہوئے پایا ہے۔امریکہ۔جرمنی۔اٹلی۔انگلینڈ ٹانا۔نائیجیریا وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔میں مشن کو یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی امکانی مرد مجھے سے ہو سکی میں کروں گا۔کیونکہ یہ مشن اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور حفاظت کیلئے لڑ رہا ہے۔آپ لوگوں کے سامنے کام کرنیکا وسیع میدان ہے آپ کو چاہئے کہ ایسے پورا پورا فائدہ اٹھائیں آپ لوگوں کو زیادہ زیادہ قربانیاں کر کے میشن کی مدد کرنی چاہیئے۔تا اسلام کا بول بالا ہو۔حضرت خدیجہ کا نمونہ عورتوں کے سامنے ہے۔بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت کر کے عورتیں بہت بڑا کام کر سکتی ہیں۔نہیں اپنا نمونہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔میرا کہ میں سکولوں میںتعلیم پانے کے باوجود تہ دل سے مسلمان بہنا صرف