تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 439 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 439

لم ہے۔اسلام افریقین لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے۔کیونکہ افریقہ میں یہ اس طرح پیش کیا گیا ہے۔کہ گویا یہ افر فقیہ کی کالی اقوام کا ہی مذہب ہے۔عیسائیت کے برخلاف اسلام انسانی کمزوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ہر نئے آنیوالے کو سہو سے اپنے اندر سمو لیتا ہے۔کیونکہ اسلام کی سادہ تعلیم کے پیش نظر اس کو رسمی قیامتوں سے دو چار نہیں ہونا پڑتا۔اس ضمن میں سیرالیون اور مغربی نائیجیر یا دو اہم علاقے ہیں۔سیرالیون بھی اگلے اپریل میں آزاد ملکوں کی برادری میں شامل ہو جائے گا۔مغربی نائیجیر یا وہ علاقہ ہے جہاں عیسائیت کا ماضی نہایت شاندار روایات کا حامل رہا ہے۔لیکن اب انہی دو علاقوں میں اسلام کو نمایاں تہ تی حاصل ہو رہی ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ سیرالیوں تو احمدی مسلمانوں کی منتخب سرزمین ہے۔جہاں وہ پاکستان سے آئے ہوئے منظم مشینوں کے ماتحت نہایت مضبوط حیثیت میں سرگرم عمل ہیں۔احمدیہ جماعت اس مقصد کو لے کہ کھڑی ہوئی ہے کہ اسلام کہ عیسائیت کے مقابلہ میں موجودہ دنیا کی راہ نمائی کے لئے پیش کرے۔اور یہ عیسائیت کے لئے ایک چیلنج ہے۔اور اب تو انہوں نے سیرالیون میں با قاعدہ ڈاکٹری میشن کھو لنے کا بھی عزم کہ لیا ہے۔اور وہاں احمدیہ سکولوں کی تعداد بھی بندر بیچ بڑھ رہی ہے۔باوثوق ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام عیسائیت کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ ترقی کر رہا ہے۔نائیجیریا کا وسیع شمالی علاقہ اسلام کا گڑھ بن چکا ہے۔جو بدبو د عیسائی مشنوں کی سالہا سال کی کوششوں کے مذہبی اعتبار سے ناقابل تسخیر اسلامی ملک ثابت ہوا ہے۔بلکہ خود جنوں کے جنگلاتی علاقہ میں جہاں عیسائی مشنز نہایت مضبوط ہیں۔دونوں بھیج کہ اسلامی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے اور اب نائیجیریا کے آزاد ہو جانے پر ان دونوں بڑے مذاہب کے ایسے تصادم کا امکان ہے۔جو ابتک کہیں اور رونما نہیں ہوا ہے۔کیو نکہ یہاں اسلام اور عیسائیت نہایت جوش خروش کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کمربستہ ہیں۔تاکہ ان قبائل کو اپنے زیر اثر ائیں جوکسی منہ سے وابستہ نہیں بلکہ تو مہاتی شرکت میں مبتلا ہیں۔اس مقابلہ کے نتیجہ پر ہی افریقہ کے مستقبل کا انحصا ہے۔لے ، مسٹر عبداللہ بیٹ سیرالیون نے کہا :- " مجھے وہ وقت خوب یا د ہے کہ حبیب حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیز مرحوم کا مبارک قدم سرزمین سیرالیون میں پڑا۔اس وقت یہ اندازہ لگانا محال امر تھا کہ ایک دن احمدیت یہاں پر اتنی مضبوط ہو جائینگی انہوں نے بتایا کہ مولانا نیز صاحب مرحوم کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم ہو گئے مگر ان کا قیام بہت ه الفضل ۲۳ رو نمبر شاہ وقت ہے