تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 434 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 434

۴۱۹ اس گاؤں کے اکثر مسلمانوں کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور اُس وقت سے بفضل تیارا امدی ہوں نے پانچواں واقعہ موضع بلاما (BLAMA) کے ایک احمدی الفافو ڈ سے موسی کہ و ما تحر یہ کرتے ہیں:۔is جبکہ میں ابھی عین جوانی کی حالت میں تھا اور پنڈ میبو (PEN DEM BU) نامی گاؤں میں رہائش رکھتا تھا۔ایک روزدوپہر کے وقت جبکہ میں قیلولہ کر رہا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وجیہہ شکل فرشته صورت انسان میرے پاس آئے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ میں ہی وہ مہدی ہوں جس کی فی زمانہ مسلمانوں کو انتظار ہے۔اس پر میں نے سوال کیا کہ کیا آپ فی الواقعہ صحیح کہ رہے ہیں کہ آپ ہنی موعود مہدی ہیں۔جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہاں میں پنچ کہتا ہوں کہ میں ہی مہدی موعود ہوں۔پھر میں نے کہا کہ ہم نے اپنے علماء سے سُنا ہوا ہے کہ مہدی علیہ السلام کے وقت مسلمانوں اور کفار کے درمیان جنگ ہوگی سعود آج سے میں آپ کے سپاہیوں میں شامل ہوتا ہوں۔اور اس راستہ میں اگر میرا باپ بھی حائل ہوا تو اسکی بھی کوئی پرواہ نہیں کروں گا۔میرے اس اقرار پر حضرت مہدی علیہ السلام نے سوال کیا کہ کیا تم نے صدق دل سے یہ اقرار مجھ سے کیا ہے ؟ جس کا جواب میں نے اثبات میں دیا اور اسکے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس ردیاء پر ایک کافی لبا عرصہ گزر گیا۔مگر مہدی کے ظہور کی کوئی خبر موصول نہ ہوئی یعنی کہ آہستہ آہستہ یہ خواب بھی میرے ذہن سے محو ہو گئی۔کچھ مدت کے بعد میں پنڈ میون منتقل ہو کہ بنانا چلا آیا اور وہاں کے پیرامونٹ چیف کے کمپاؤنڈ میں رہائش اختیار کر لی۔اس گاؤں میں میری رہائش پر ابھی چند ہی سال گزرے تھے کہ الحاج مولوی نذیر احمد صاحب علی اور مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری بلا ما تشریف لائے اور لوگوں کو ظہور مہدی علیہ السلام کی بشارت دی۔یکی اُس وقت وہاں موجود نہیں تھا۔بلکہ چند یوم کے لئے کسی ذاتی کام کے ضمن میں بو کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں تقسیم تھا۔جب یہ مبشرین بلانا پہنچے وہاں سے الفاموسی کمار نے فوراً میری ایک بیوی میرے پاس بھیجی تا کہ مجھے تمام حالات سے آگاہ کر سکے۔چنانچہ میری بیوی نے مکمل واقعات سے مجھے مطلع کیا ادھر ہی لیا اسلام کے ظہور کی خبر سنتے ہیں میں نے بجائے بلا ما جانے کے وہاں ہی خدا تعالیٰ کے حضور دعا شروع کر دی کہ اسے خدا وند تعالیٰ تیری ذات عالم الغیب ہے۔سو اگر ان لوگوں کا پیغام واقعی صداقت پر مبنی ہے۔اور مہدی علیہ السلام فی الواقع ظہور فرما چکے ہیں۔جیساکہ ان کا کہنا ہے تو تو تو ہی میری راہنمائی فرما۔تاکہ ایسانہ ہوکہ له الفضل اار جولائی تارد ست و نعت کالم ۴-۱ ہے