تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 419
انجبار در سیسینٹ افریقین (بابت ضروری شام میں لکھا :- موجودہ حالات میں یہ بہتر ہو گا کہ ان لوں دینی سیرالیون کے باشندوں کو، اسلام کی طرف جھکاؤ کے باعث اپ چھوڑ دیا جائے۔کیونکہ یہ پہلے سے اسلام کی طرف میلان رکھتے ہیں۔اسلام نے ایک اعلی ضابطہ پیش کیا ہے۔اور اخلاقی اعتبار سے کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ عیسائیت اسلام کی مضبوط بنیا دوں کے خلاف کیوں دائمی مسکن نتیجہ کا کام جنگ جاری رکھے۔اس نوعیت کی جنگ اب تک جاری ہے اور دونوں طرف سے تعلیماتی جدو جہد کا باد انتہائی درجہ پر ہے۔کیونکہ کچھ عرصہ سے جماعت احمدیہ کے ذریعہ جو اسلامی ملک یہاں پہنچی ہے۔رو کو پر کے نو بھی علاقہ میں اس جماعت کی مضبوط مورچہ بندی ہوگئی ہے۔اور اس عیسائیت کے مقابلہ پر تمام تو کامیابی اسلام کو نصیب ہو رہی ہے۔مثال کے طور پر اس مقابلہ کی صف آرائی کے نتیجہ میں تھوڑا عرصہ ہوا کہ کا مبیا میں امریکن دعیسائی مشن کو بند کرنا پڑا ہے۔" عیسائی مشنوں کھا پانچ ستارہ کے جگ جگ میر ایوان کے ایک امریکی پیش کی جسے ان دنوں لگ سیرالیون U۔B۔C۔Mission کہا جاتا تھا اور آجکل E۔۔۔B۔Mission کہلاتا ہے، ایک کتابچہ CHRISTIAN CATECHISM کا دوسرا ایڈیشن بکثرت شائع کیا۔اس کتا بچہ میں اسلام کے متعلق شدید زہر افشانی اور غلط بیانیاں کی گئیں تھیں اور آنحضرت صل اللہ علیہ وسم کے متعلق نہایت ناز نبا اور دل آزار الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔احمدی مجاہدین نے سیرالیون کے تمام مسلمان فرقوں کو اس دل آزار کتابچہ کے نقصانات سے بر وقت آگاہ کیا۔مگر انہوں نے تو صرف حکومت کے سامنے اس کتے بچہ کی ضبطی کا سوال اٹھایا۔لیکن سیرالیون میشن کے مبلغ انچارج مولوی محمدصدیق صاب امر تسری نے فوری طور پر مرکز سے مشورہ کے بعد ایک مدلل جواب بعنوان - A CHALLENGE" تیار کیا۔جو چھپوا کر ملک کے طول و عرض میں کئی مہران کی تعداد میں ہر طبقہ To U۔B۔C۔Mission" میں شائع کیا گیا۔اس رسالہ میں نہ صرف یو پی سی مشین کو بلکہ سیرالیون میں اس وقت موجودہ تمام عیسائی مشفون سر برا ہوں کو چیلنج کیا گیا کہ وہ یا تو ایسی دل آزار کتب کی اشاعت سے بادہ ہیں اور یا پھر جماعت احمدیہ کے نمائندگان سے ایک فیصد کی پلک مناظرہ اسلام اور عیسائیت کے مواز نہ پہ کر لیں تاکہ پبلک پھر خود فیصلہ کر سکے که در حقیقت کونسا مذہب کا لگران بہتا ہے۔لیکن کی عیسائی مشن کے سربراہ یا نما ئندہ کو نہ صرف یہ ملخ له الفضل ، اکتو بر نشادر دست دوم بیدی امن باحمد جلد چہارم من +