تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 415
۴۰۰ اور بھیج دیا۔چیف اور اسکے لوگوں نے اپنے بہت جس کو وہ شیطان (oaviL) کہتے ہیں کے سامنے شراب پی کر وعدہ کیا ہے۔کہ وہ احمدیت کو وہاں سے نکال دیگا۔اور یہ قانون بنا دیا جائے کہ آئندہ اس کی چینڈم کا جو شخص بھی یہ کہے گا۔کہ لوکل شراب حرام ہے یا کہ میں اب شراب نہیں پی نگا۔اسے پانچ شلنگ جرما نہ کیا جائیگا۔ان معاملات کو میں ایک دفعہ ڈویژنل کمشنر کے سامنے بھی تفصیل سے پیش کر چکا ہوں۔مگر انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں کی۔اب دوبارہ پیش کر رہا ہوں۔اسی طرح ایک او چینڈم میں وہاں کا چیف وہاں کے نئے احمدیوں کو نہایت سخت اذیت پہنچا ر ہا ہے۔باوجود اس کے کہ اس علاقہ کے ڈی سی صادر نے احمدیوں اور سیف کے درمیان ایک مقدمے کا فیصلہ احمدیوں کے حق میں دیا۔اور آئندہ چیف کو ہدایت کی کہ ان کے مذہب میں مداخلت نہ کرے۔پھر بھی اسی کوئی پرواہ نہ کی۔اور اب دوسرے کھیلوں سے تنگ کر رہا ہے۔اگر احمدی ایک دفعہ گاؤں میں اپنے طریق پر باجماعت نماز پڑھیں تو پھر شلنگ جرمانہ کرنے کے علاوہ سزا بھی دیتا ہے را در پیف کے خلاف کوئی گواہی دنیا نا پسند کرتا ہے اور نہ جمائت کرتا ہے۔اسلئے جب بھی ان تکالیف کی رپورٹ احمدی میرے ذریعے یا بذات خود وہاں کے ڈی سی سے کرتے ہیں۔تو وہ فورا کہ دیتا ہے یہ سب کھوٹ ہے۔اور کہ نہ ان سے اچھا سلوک کرتا ہے۔اور چونکہ ڈی سی کو چیغیوں کی عزت قائم رکھنے کا ہمیشہ نیال رہتا ہے۔اسلئے چیف کی بات کا بغیر تحقیق کے اعتبار کر لیا جاتا ہے۔اب یہ چیف ایسی تکلیفیں دے رہا ہے۔چونکہ وہاں کے احمدی نئے تھے۔ان میں سے سات آٹھ نے بظا ہر تکالیف اور مشکلات سے ڈر کر احدیت سے انکار کر دیا ہے۔لیکن بعض اب تک صبر و تحمل کے برداشت کر رہے ہیں۔اس بارے میں میں تین بار خود اس علاقہ میں جا چکا ہوں۔حالانکہ میر ہیڈ کوارٹر سے بہت دور ہے۔اور ڈویژنل کمشنر صاحب کو بہ تفصیل تو جہ دلا چکا ہوں۔مگر اب تک ہمارے یہ بھائی تکالیف میں پہلے آتے ہیں۔میں نے ڈرتیری کمشنر صاحب کو کہا تھا کہ احمدیوں کو مذہبی آزادی دلانے کے علاوہ انہیں اپنی مسجد بنانے کے لئے چھوٹی سی جگہ دوائی کھائے۔کیونکہ ان کی تعداد پہلے میر کے قریب تھی۔اور وہ کسی کمرے میں اکٹھے نمانہ نہ پڑھ سکتے تھے۔انہوں نے چیف کو سکھدیا کہ احمدیوں کو گاؤں سے ایک میل دور مشن یا مسجد بنانے کیلئے جگہ دی جائے تا کہ احمدیوں اور غیر حدید میں جھگڑا نہ ہو سکے۔چیفہ نے ایسا ہی کیا۔لیکن چونکہ جگہ ڈورا در جنگل میں تھی۔اور مسجد کیلئے نامناسب