تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 411 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 411

اس طرح خدا کے فضل سے بہور کا دور ہو میں شاندار احمدیہ مراکز کی تکمیل سے احمدی کے قدم سیرالیون میں مضبوطی سے قائم ہو گئے اور ملک میں احمدیت کے وسیلے اثر و نفوذ کی راہیں کھل گئیں۔بو احمدیہ سکول کیلئے کیسے مناسب موقع پر عمدہ زمین میسر آگئی ؟ یہ بھی ایک ایمان افروز واقعہ ہے جسکی تفصیل مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔فرماتے ہیں :۔جب الحاج مولوی نذیر احمد علی صاحب رضی اللہ عنہ ہو میں سیرالیون میں تشریف لائے۔اس زمانہ میں رد یہ حال تھا۔کہ اسی جو شہر میں میں کمرے میں ہم رہتے تھے اس کی لمبائی چوڑائی ک۔ا سے زیادہ نہیں تھی اور سارا شہر کیا عیسائی اور کیا مسلمان کیا چھوٹے اور کیا بڑے سب ہمارے مخالف تھے عیسائی اور انکی مسلمان اس شہر کے چیف کو اکثر اکساتے رہتے تھے۔کہ ہمیں وہ اپنے شہر یعنی بو میں جگہ نہ دے۔لیکن خدا تعالیٰ نے احمدیت کے قدموں کو سیرالیوں میں جانا تھا۔استی خود ہی ایسے سامان پیدا کر دیئے۔کہ ان مخالفین نے شہر کے چیف سے مل کہ ایک دن مقرر کیا۔یہیں میں احمدیوں کا غیر احمدیوں اور عیسائیوں کے ساتھ فیصلہ کن مباحثہ ہو۔اور اگر احمدی ہار جائیں تو انہیں اس شہر سے نکال دیا جائے۔اور کوئی جگہ نہ دی جائے۔دراصل یہ ایک سکیم تھی جو احمدیت کے خلاف بنائی گئی۔لیکن مَكَرُوا اللَّهَ وَاللَّهُ خَيْرُ الماکرین کے مطابق یہ سکیم مخالفین احمدیت ہی کے خلاف ہو گئی۔جب مباحثہ کا دن آیا۔لوکل پین نے محترم الحاج نذیر احد صاحب علی کو بتلا دیا تھاکہ اگر تم جیت گئے تو تمہیں جگہ دوں گا ورنہ تمہیں کوئی جگہ نہیں مل سکے گی۔اور تم ني ده اس شہر سے نکال دیئے جاؤ گے۔چنانچہ ہم دعائیں اور تیاری کرنی شروع کی جس جگہ مباحثہ ہونا تھا یہاں کی نیٹو (NATIVE) عدالت تھی۔وقت مقررہ پر ہم نے اپنی عربی - انگریزی کتب اور بڑی بڑی حدیثی اور تفسیریں لے جا کر عدالت کے ایک طرف اپنی میزیں لگا کر رکھ دیں۔جب سب لوگ جمع ہوئے تو ہمارے مخالف جو یہ سمجھ رہے تھے۔کہ ہم بھی شاید دوسرے علماء کی طرح صرف روپیہ کمانے اور اکٹھا کرنے کے لئے آئے ہیں۔اور روپیہ اکٹھا کرکے چلے جائیں گے۔گھبرا گئے۔اور از حد خوفزدہ اور مرعوب ہو گئے۔اتنے خائف ہوئے کہ چیف نے بھری کورٹ میں اُن سے ایک ایک کرکے پوچھنا شروع کیا کہ تمہیں احمدیوں کے خلاف کیا شکایات ہیں۔تو یکے بعد دیگرے انہوں نے اُٹھ اُٹھ کر کہنا شروع کر دیا۔کہ ہیں احمدیت کے خلاف کوئی شکایت نہیں۔وہ ہمارے بھائی اور دوست ہیں۔سب سے پہلے یہاں کے ایک پادری ونسن نے اٹھکر کہا کہ مجھے حاجی نذیر احمد کے خلاف کوئی شکایت نہیں۔بلکہ در حقیقت حاجی صاب