تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 410
۳۹۵ کے ساتھ ہی ایک غیر احمدی عالم کا مکان تھا جی نے مسجد کی مخالفت کی تاہم چیف نے مسجد کی اجازت دیدی۔لیکن اجازت ملنے کے بعد مسجد کی بنیاد رکھنے پر ازسرنو جھگڑا کھڑا کر دیا گیا۔چنانچہ مولوی محمد صدیق صاحب کا بیان ہے کہ :۔" مسجد احد یہ ہو کی بنیاد رکھی گئی جس پر ٹو کے پیرا مونٹ چیف نے بہت جھگڑا کیا۔اور چھی اس بہانے پر کہ مسجد کی تعمیر شروع کرتے وقت ہم نے اسکی اجازت نہیں لی۔اور کہ احمدی اسکی اور اسکے خیر احمدی علماء کی عزت نہیں کرتے۔اور کہ با وجود اسکے حکم کے احمدیوں نے گزشتہ عیار کی نمازہ غیر اصدیوں سے علیحدہ پڑھی۔وہ اس قصبہ میں کسی احمد یہ عمارت کی اجازت نہیں دے سکتا اور اس طرح اپنی پولیس کے چند آدمی بھیجا کہ میں اُس وقت جبکہ ہم بنیادیں کھود کر لکڑی کی دیوا نہیں کھڑی کر رہے تھے ہم کو لگا رہا مسجد تعمیر کرنے سے منع کر دیا۔اس پر میں چندا مدیون کمیت استی گفتگو کرنے کیلئے گیا۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے چیف کو اور ہمارے دیگر دشمنوں کو نا کامی کا مونہ کھانا تھا۔اسلئے مسجد کا وہ نقشہ جو ہلتھ آفیسر اور ڈی سی اور خود چیف کا پاس کردہ تھا اور سب کے اس پر دستخط تھے ہمارے پاس موجود تھا۔اور جب کافی بحث وغیرہ کے بعد چیف نے مسجد کی اجازت نہ دی تو میں نے بھری مجلس میں نقشہ نکال کر سامنے رکھتے ہوئے کہا۔کہ آپ اپنے ہاتھ سے ہم کو تحریر ی طور پر اس نقشے پر دستخط کر کے اجازت دے چکے ہیں۔اور دوسرے افسروں کے بھی قانونی طور پر دستخط موجود ہیں۔اب کیوں انکار کیا جاتا ہے۔پہلے تو وہ کہنے لگا کہ مجھے اس نقشہ کا علم ہی نہیں اور کہ ہم نے تھوٹے طور پر بنا لیا ہے۔پھر کہا اچھا صبح وہ اپنے کلرک سے پوچھے گا۔اور اگر یہ نقشہ واقعی اصلی ہوا تو ہم سجد بنانے کی اجازت دیدیں گے۔چنانچہ دوسرے دن صبح آٹھ بجے ہی اسی اجازت دیدی۔اور ہم نے اُسی دن مسجد تعمیر کرنا شروع کر دی - جمله احمدی مرد، مور میں اور بچے ہر جمعہ اور بعض دفعہ دو گردنوں میں بھی کام کرتے رہے۔مکرم چوہدری محمد احسان الہی صاحب نے اللہ تعالیٰ کی اس عبادت گاہ کی تیاری میں خاص جانفشانی اور غیر معمولی محنت سے کام لیا محرا کے اندرونی جھتے کو ہندستانی طرز کا بنانے میں اور پھر مسجد کے باہر کی چھوٹی چار دیواری کھڑی کرنے میں انہوں نے خاص مہارت سے کام کیا۔مسٹر علی مصطفے اور دیگر احباب نے بھی متواتر خوب اور مشقت سے کام کیا ہے ه الفضل ۲۹ جون ۱۹۳۵ ص ۳ کالم ملتا ہے