تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 393 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 393

۳۸۰ کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے اور میں کسی کو قلق اور اضطراب میں رکھنا نہیں چاہتا ہوں اس لئے میں ان کے وسوسہ کو دور کرنے اور اُن کے خدشات کو مٹانے کے لئے وہ بات کہتا ہوں جس کی مجھے عام حالات میں ضرورت نہیں تھی اور میں اس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کی بھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ میں نے کسی کو پٹوانا اور قتل کروانا تو الگ رہا آج تک سازش سے کسی کو چپیڑ بھی نہیں لگوائی کسی پر انگلی بھی نہیں اُٹھوائی۔اور نہ میرے قلب کے کسی گوشہ میں یہ بات آئی ہے کہ میں خدانخواستہ آئندہ کسی کو بھی قتل کرواؤں یا قتل تو الگ رہا نا جائز طور پر بیٹھا ہی دوں۔اگر میں اس قسم میں چھوٹا ہوں تو اللہ تعالے کی لعنت مجھ پر اور میری اولاد پر ہو۔ان لوگوں نے میری صحبت میں ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔اگر یہ لوگ تعصب سے بالکل ہی عقل نہ کھو چکے ہوتے تو یہ ان باتوں سے شک میں پڑنے کی بجائے خود ہی ان باتوں کو رد کر دیتے۔خدا تعالیٰ نے مجھے ظالم نہیں بنایا۔اس نے مجھے ایک ہمدرد دل دیا ہے جو ساری عمر دنیا کے غموں میں گھلتا رہا ہے اور گھل رہا ہے۔ایک محبت کرنے والا دل یس میں سب دنیا کی خیر خواہی ہے۔ایک ایسا دل جس کی بڑی خواہش ہی یہ ہے کہ وہ اور اس کی اولاد اللہ تعال کے عشق کے بعد اس کے بندوں کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کریں۔ان امور میں مجبوریوں یا غلطیوں کی وجہ سے کوئی کمی آجائے تو آجائے مگر اس کے ارادہ میں اس بارہ میں کبھی کمی نہیں آتی " اس خطبہ کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ :- یمیں پھر شیخ صاحب سے اخلاص اور خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ جس جس رنگ میں خدا تعالے کی قسم کھانا میرے نئے ممکن تھا میں نے قسمیں کھائی ہیں اور ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تو یہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گنا ہوں کی معافی طلب کریں ہمیں نے ان کی باتوں کو شناور صبر کیا کہ دوسرے لوگ اس حد تک صبر نہیں کرسکتے مگر وہ یقین رکھیں اور اگر وہ یقین نہیں کریں گے تو زمانہ اُن کو یقین دلا دے گا۔اور اگر انہیں اس دنیا میں یقین نہ آیا تو مرنے کے بعد انہیں اس بات کا یقین آجائے گا کہ انہوں نے مجھ پر وہ بدترین اسلیم کیا ہے جو زیادہ سے زیادہ انسان دنیا میں کسی پر کر سکتا ہے۔انہوں نے ان حریوں کو استعمال کیا ہے جن تربوں کے استعمال کی اسلام اور قرآن اجازت نہیں دیتا۔میں نے آجتک خدا تعالیٰ کے فضل سے کبھی دیدہ دانستہ دو سر سے پالم نہیں کیا، اور اگر کسی ایسے شخص کا مقدمہ میرے پاس آجائے جس سے مجھے کوئی ذاتی بخش ہو تو میرا طریق یہ ہے کہ میں ہر وقت یہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ الہی یہ میرے امتحان کا وقت ہے تو اپنا فضل میرے شامل حال رکھے۔ایسا نہ ہو کہ میں فیل ہو جاؤں۔ایسا نہ ہو کہ میرے دل کی کوئی رنجش اس فیصلہ پر اثر انداز ہو جائے اور میں انصاف کے خلاف فیصلہ