تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 384 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 384

تھے اور دوسری طرف خوارج “ اور ”دہریہ لوگوں سے نہ صرف خلیفہ وقت کے خلاف تحقیقاتی کمیشن بٹھانے کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ اُن کو انصاف کے ساتھ فیصل مسالہ کرنے کی بھی تلقین کر رہے تھے چنا نچھ انہوں نے اپنے پمفلٹ "جماعت کو خطاب “ کے صفحہ ہم پر لکھا :- دوستو اٹھو اور خون کی چادر اتار کر مومنانہ دلیری سے کام لیتے ہوئے تحقیق شروع کر دو خلیفہ کی بجاز کی اس میں قطعاً ضرورت نہیں بخلیفہ اور خاکسار کا مقدمہ جماعت کے سامنے پیش ہے۔جماعت کا فرض ہے کہ وہ فریقین کے بیانات شنکر انصاف کے ساتھ اپنا فیصلہ دے“ مصری صاحب نے اپنے ناپاک مقاصد کی تکمیل کے لئے الزام مصری صاحب کیا کیا کیا کیا کہ ان سے جانے نہیں دیا حتی کہ انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے خلاف اعانت قتل تک کے مقدمات اور استغاثے تک دائر کئے ہے پہلے ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا جو خارج کر دیا گیا۔پھر اس کی اپیل عدالت مشن میں کی۔جسے عدالت کمشن نے بھی خارج کر دیا اور لکھا کہ مستغیث کو چونکہ مرزا صاحب سے دشمنی ہے اتنے عرصہ میں و چھوٹے گواہ تیار کر سکتا ہے۔اس کے بعد انہوں نے استغاثہ مجسٹریٹ علاقہ کی عدالت میں دائر کیا جو وہ بھی خارج کر دیا گیا جبکہ مصری صاحب کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجہ میں فریقین مصری صاحب کے مقدمات میں ارائی کی ضمانتیں ہوئیں مصری صاحب کے مقدمات میں واری اور غیر مبائع و کار کی امانت ہو خیر مبائی دکھا نے ان کی پوری پوری اعانت کی جھیا اور وکلاء که مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین کے مندرجہ ذیل مکتوب سے ثابت ہے جو مولوی صاحب موصوف نے ڈلہوزی سے ۱۲۶ اگست ۱۹۳۷ء کو حافظ محمد حسن صاحب جیمیہ وکیل گجرات کے نام تحریر کیا۔(مکتوب انگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں) ے اس مطالبہ کی شرعی حیثیت کے تعلق میں "افضل" مراگست 19 صفحہ 10-11 میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا ایک اہم مضمون قابل دید ہے۔ہو 2 مقدمات کی روداد کے سلسلہ میں ملاحظہ ہو اخبار" الفضل نو میری ۹۳ فروری ۱۹۳۸ سے " الفصل ۱۸ مارچ ۳۰ صفحه ۵ کالم * +